الإنسان
Man • 31 ayahs • Medinan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1یقیناً گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں[1] جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا.
2بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے[1] پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا.
3ہم نے اسے راه دکھائی اب خواه وه شکر گزار بنے خواه ناشکرا.[1]
4یقیناً ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور شعلوں والی آگ تیار کر رکھی ہے.[1]
5بیشک نیک لوگ وه جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہے.[1]
6جو ایک چشمہ ہے[1] ۔ جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اس کی نہریں نکال لے جائیں گے[2] (جدھر چاہیں).
7جو نذر پوری کرتے ہیں[1] اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے.[2]
8اور اللہ تعالیٰ کی محبت[1] میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین، یتیم اور قیدیوں کو.
9ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر گزاری.
10بیشک ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں[1] جو اداسی اور سختی واﻻ ہوگا.
11پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا[1] اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی.[2]
12اور انہیں ان کے صبر[1] کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے.
13یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ جاڑے کی سختی.[1]
14ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے[1] اور ان کے (میوے اور) گچھے نیچے لٹکائے ہوئے ہوں گے.[2]
15اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جائے گا[1] جو شیشے کے ہوں گے.
16شیشے بھی چاندی [1]کے جن کو (ساقی نے) اندازے سے ناپ رکھا ہوگا.[2]
17اور انہیں وہاں وه جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش زنجبیل کی ہوگی.[1]
18جنت کی ایک نہر سے جس کا نام سلسبیل ہے.[1]
19اور ان کے ارد گرد گھومتے پھرتے ہوں گے وه کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں[1] جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وه بکھرے ہوئے سچے موتی ہیں.[2]
20تو وہاں جہاں کہیں بھی نظر ڈالے گا[1] سراسر نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا.
21ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے[1] اور انہیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائے گا[2]۔ اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا.
22(کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی.
23بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے.[1]
24پس تو اپنے رب کے حکم پر قائم ره[1] اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہا نہ مان.[2]
25اور اپنے رب کے نام کا صبح وشام ذکر کیا کر.[1]
26اور رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کر اور بہت رات تک اس کی تسبیح کیا کر.[1]
27بیشک یہ لوگ جلدی ملنے والی (دنیا) کو چاہتے ہیں[1] اور اپنے پیچھے ایک بڑے بھاری دن کو چھوڑے دیتے ہیں.[2]
28ہم نے انہیں پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ اور بندھن مضبوط کیے[1] اور ہم جب چاہیں ان کے عوض ان جیسے اوروں کو بدل ﻻئیں.[2]
29یقیناً یہ تو ایک نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی راه لے لے.[1]
30اور تم نہ چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی چاہے[1] بیشک اللہ تعالیٰ علم واﻻ باحکمت ہے.[2]
31جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلے، اور ﻇالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے.[1]