النحل
The Bee • 128 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا، اب اس کی جلدی نہ مچاؤ[1] ۔ تمام پاکی اس کے لیے ہے وه برتر ہے ان سب سے جنہیں یہ اللہ کے نزدیک شریک بتلاتے ہیں.
2وہی فرشتوں کو اپنی وحی[1] دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے[2] اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاه کر دو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، پس تم مجھ سے ڈرو.
3اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا[1] وه اس سے بری ہے جو مشرک کرتے ہیں.
4اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وه صریح جھگڑالو بن بیٹھا.[1]
5اسی نے چوپائے پیدا کیے جن میں تمہارے لیے گرمی کے لباس ہیں[1] اور بھی بہت سے نفع ہیں اور بعض تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں.
6اور ان میں تمہاری رونق بھی ہے جب چرا کر ﻻؤ تب بھی اور جب چرانے لے جاؤ تب بھی.[1]
7اور وه تمہارے بوجھ ان شہروں تک اٹھالے جاتے ہیں جہاں تم بغیر آدھی جان کیے پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ یقیناً تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور نہایت مہربان ہے.
8گھوڑوں کو، خچروں کو، گدھوں کو اس نے پیدا کیا کہ تم ان کی سواری لو اور وه باعﺚ زینت بھی ہیں[1] ۔ اور بھی وه ایسی بہت چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں.[2]
9اور اللہ پر سیدھی راه کا بتا دینا ہے[1] اور بعض ٹیڑھی راہیں ہیں، اور اگر وه چاہتا تو تم سب کو راه راست پر لگا دیتا.[2]
10وہی تمہارے فائدے کے لیے آسمان سے پانی برساتا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو.
11اسی سے وه تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے بےشک ان لوگوں کے لیے تو اس میں بڑی نشانی ہے[1] جو غوروفکر کرتے ہیں.
12اسی نے رات دن اور سورج چاند کو تمہارے لیے تابع کر دیا ہے اور ستارے بھی اسی کے حکم کے ماتحت ہیں۔ یقیناًاس میں عقلمند لوگوں کے لیے کئی ایک نشانیاں موجود ہیں.[1]
13اور بھی بہت سی چیزیں طرح طرح کے رنگ روپ کی اس نے تمہارے لیے زمین پر پھیلا رکھی ہیں۔ بیشک نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے اس میں بڑی بھاری نشانی ہے.[1]
14اور دریا بھی اسی نے تمہارے بس میں کر دیے ہیں کہ تم اس میں سے (نکلا ہوا) تازه گوشت کھاؤ اور اس میں سے اپنے پہننے کے زیورات نکال سکو اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس میں پانی چیرتی ہوئی (چلتی) ہیں اور اس لیے بھی کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور ہوسکتا ہے کہ تم شکر گزاری بھی کرو.[1]
15اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے ہیں تاکہ تمہیں لے کر ہلے نہ[1] ، اور نہریں اور راہیں بنا دیں تاکہ تم منزل مقصود کو پہنچو.[2]
16اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائیں۔ اور ستاروں سے بھی لوگ راه حاصل کرتے ہیں.
17تو کیا وه جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کرسکتا؟ کیا تم بالکل نہیں سوچتے؟[1]
18اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو تم اسے نہیں کر سکتے۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے.
19اور جو کچھ تم چھپاؤ اور ﻇاہر کرو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے.[1]
20اور جن جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وه کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے، بلکہ وه خود پیدا کیے ہوئے ہیں.[1]
21مردے ہیں زنده نہیں[1] ، انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے.[2]
22تم سب کا معبود صرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل منکر ہیں اور وه خود تکبر سے بھرے ہوئے ہیں.[1]
23بےشک وشبہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو، جسے وه لوگ چھپاتے ہیں اور جسے ﻇاہر کرتے ہیں، بخوبی جانتا ہے۔ وه غرور کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا.[1]
24ان سے جب دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں.[1]
25اسی کا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے بوجھ کے ساتھ ہی ان کے بوجھ کے بھی حصے دار ہوں گے جنہیں بے علمی سے گمراه کرتے رہے۔ دیکھو تو کیسا برا بوجھ اٹھا رہے ہیں.[1]
26ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی مکر کیا تھا، (آخر) اللہ نے (ان کے منصوبوں) کی عمارتوں کو جڑوں سے اکھیڑ دیا اور ان (کے سروں) پر (ان کی) چھتیں اوپر سے گر پڑیں[1] ، اور ان کے پاس عذاب وہاں سے آگیا جہاں کا انہیں وہم وگمان بھی نہ تھا.[2]
27پھر قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہ میرے وه شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم لڑتے جھگڑتے تھے[1] ، جنہیں علم دیا گیا تھا وه پکار اٹھیں گے[2] کہ آج تو کافروں کو رسوائی اور برائی چمٹ گئی.
28وه جو اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے ہیں، فرشتے جب ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں اس وقت وه جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے[1] ۔ کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کرتے تھے.[2]
29پس اب تو ہمیشگی کے طور پر تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ[1] ، پس کیا ہی برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا.
30اور پرہیز گاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو وه جواب دیتے ہیں کہ اچھے سے اچھا۔ جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے، اور یقیناً آخرت کا گھر تو بہت ہی بہتر ہے، اور کیا ہی خوب پرہیز گاروں کا گھر ہے.
31ہمیشگی والے باغات جہاں وه جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جو کچھ یہ طلب کریں گے وہاں ان کے لیے موجود ہوگا۔ پرہیز گاروں کو اللہ تعالیٰ اسی طرح بدلے عطا فرماتا ہے.
32وه جن کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وه پاک صاف ہوں کہتے ہیں کہ تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے[1] ، جاؤ جنت میں اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے.[2]
33کیا یہ اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا تیرے رب کا حکم آجائے[1] ؟ ایسا ہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان سے پہلے تھے[2]۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے کوئی ﻇلم نہیں کیا[3] بلکہ وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے رہے.[4]
34پس ان کے برے اعمال کے نتیجے انہیں مل گئے اور جس کی ہنسی اڑاتے تھے اس نے ان کو گھیر لیا.[1]
35مشرک لوگوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادے اس کے سوا کسی اور کی عبادت ہی نہ کرتے، نہ اس کے فرمان کے بغیر کسی چیز کو حرام کرتے۔ یہی فعل ان سے پہلے کے لوگوں کا رہا۔ تو رسولوں پر تو صرف کھلم کھلا پیغام کا پہنچا دینا ہے.[1]
36ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ﺛابت ہوگئی[1] ، پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟
37گو آپ ان کی ہدایت کے خواہش مند رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے گمراه کر دے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے.[1]
38وه لوگ بڑی سخت سخت قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ زنده نہیں کرے گا[1] ۔ کیوں نہیں ضرور زنده کرے گا یہ تو اس کا برحق ﻻزمی وعده ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں.[2]
39اس لیے بھی کہ یہ لوگ جس چیز میں اختلاف کرتے تھے اسے اللہ تعالیٰ صاف بیان کر دے اور اس لیے بھی کہ خود کافر اپنا جھوٹا ہونا جان لیں.[1]
40ہم جب کسی چیز کا اراده کرتے ہیں تو صرف ہمارا یہ کہہ دینا ہوتا ہے کہ ہوجا، پس وه ہوجاتی ہے.[1]
41جن لوگوں نے ﻇلم برداشت کرنے کے بعد اللہ کی راه میں ترک وطن کیا ہے[1] ہم انہیں بہتر سے بہتر ٹھکانا دنیا میں عطا فرمائیں گے[2] اور آخرت کا ﺛواب تو بہت ہی بڑا ہے[3]، کاش کہ لوگ اس سے واقف ہوتے.
42وه جنہوں نے دامن صبر نہ چھوڑا اور اپنے پالنے والے ہی پر بھروسہ کرتے رہے.
43آپ سے پہلے بھی ہم مَردوں کو ہی بھیجتے رہے، جن کی جانب وحی اتارا کرتے تھے پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو.[1]
44دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ، یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وه غور وفکر کریں.
45بدترین داؤ پیچ کرنے والے کیا اس بات سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان کے پاس ایسی جگہ سے عذاب آجائے جہاں کا انہیں وہم وگمان بھی نہ ہو.
46یا انہیں چلتے پھرتے پکڑ لے[1] یہ کسی صورت میں اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے.
47یا انہیں ڈرا دھمکا کر پکڑ لے[1] ، پس یقیناً تمہارا پروردگار اعلیٰ شفقت اور انتہائی رحم واﻻ ہے.[2]
48کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا؟ کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہوتے اور عاجزی کا اﻇہار کرتے ہیں.[1]
49یقیناً آسمان وزمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے۔
50اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے، کپکپاتے رہتے ہیں[1] اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں.[2]
51اللہ تعالیٰ ارشاد فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ۔ معبود تو صرف وہی اکیلا ہے[1] ، پس تم سب صرف میرا ہی ڈر خوف رکھو.
52آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت ﻻزم ہے[1] ، کیا پھر تم اس کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو؟
53تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں[1] ، اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو اسی کی طرف نالہ وفریاد کرتے ہو.[2]
54اور جہاں اس نے وه مصیبت تم سے دفع کر دی تم میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگ جاتے ہیں.
55کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں[1] ۔ اچھا کچھ فائده اٹھالو آخر کار تمہیں معلوم ہو ہی جائے گ.[2]
56اور جسے جانتے بوجھتے بھی نہیں اس کا حصہ ہماری دی ہوئی روزی میں سے مقرر کرتے ہیں[1] ، واللہ تمہارے اس بہتان کا سوال تم سے ضرور ہی کیا جائے گا.[2]
57اور وه اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں اور اپنے لیے وه جو اپنی خواہش کے مطابق ہو.[1]
58ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہره سیاه ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے.
59اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لئے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے، آه! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں؟[1]
60آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کی ہی بری مثال ہے[1] ، اللہ کے لیے تو بہت ہی بلند صفت ہے، وه بڑا ہی غالب اور باحکمت ہے.[2]
61اگر لوگوں کے گناه پر اللہ تعالیٰ ان کی گرفت کرتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار باقی نہ رہتا[1] ، لیکن وه تو انہیں ایک وقت مقرر تک ڈھیل دیتا ہے[2]، جب ان کا وه وقت آجاتا ہے تو وه ایک ساعت نہ پیچھے ره سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں.
62اور وه اپنے لیے جو ناپسند رکھتے ہیں اللہ کے لیے ﺛابت کرتے ہیں[1] اور ان کی زبانیں جھوٹی باتیں بیان کرتی ہیں کہ ان کے لیے خوبی ہے[2]۔ نہیں نہیں، دراصل ان کے لیے آگ ہے اور یہ دوزخیوں کے پیش رو ہیں.[3]
63واللہ! ہم نے تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی اپنے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کے اعمال بد ان کی نگاہوں میں آراستہ کر دیئے[1] ، وه شیطان آج بھی ان کا رفیق بنا ہوا ہے[2] اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے.
64اس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لیے اتارا ہے کہ آپ ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وه اختلاف کر رہے ہیں[1] اور یہ ایمان والوں کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے.
65اور اللہ آسمان سے پانی برسا کر اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سنیں.
66تمہارے لیے تو چوپایوں[1] میں بھی بڑی عبرت ہے کہ ہم تمہیں اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اسی میں سے گوبر اور لہو کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے سہتا پچتا ہے.[2]
67اور کھجور اور انگور کے درختوں کے پھلوں سے تم شراب بنا لیتے[1] ہو اور عمده روزی بھی۔ جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لیے تو اس میں بہت بڑی نشانی ہے.
68آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات[1] ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹٹیوں میں اپنے گھر (چھتے) بنا.
69اور ہر طرح کے میوے کھا اور اپنے رب کی آسان راہوں میں چلتی پھرتی ره، ان کے پیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے[1] ، جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں لوگوں کے لیے شفا[2] ہے غوروفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بھی بہت بڑی نشانی ہے.[3]
70اللہ تعالیٰ نے ہی تم سب کو پیدا کیا ہے وہی پھر تمہیں فوت کرے گا، تم میں ایسے بھی ہیں جو بدترین عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے بوجھنے کے بعد بھی نہ جانیں۔ بیشک اللہ دانا اور توانا ہے[1]
71اللہ تعالیٰ ہی نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر روزی میں زیادتی دے رکھی ہے، پس جنہیں زیادتی دی گئی ہے وه اپنی روزی اپنے ماتحت غلاموں کو نہیں دیتے کہ وه اور یہ اس میں برابر ہو جائیں[1] ، تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہو رہے ہیں؟[2]
72اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں۔ کیا پھر بھی لوگ باطل پر ایمان ﻻئیں گے[1] ؟ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے؟
73اور وه اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے انہیں کچھ بھی تو روزی نہیں دے سکتے اور نہ کچھ قدرت رکھتے ہیں.[1]
74پس اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں مت بناؤ[1] اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے.[2]
75اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے دوسرے کی ملکیت کا، جو کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک اور شخص ہے جسے ہم نے اپنے پاس سے معقول روزی دے رکھی ہے، جس میں سے وه چھپے کھلے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ سب برابر ہوسکتے ہیں[1] ؟ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے سب تعریف ہے، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے.
76اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے[1] ، دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وه اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیجے وه کوئی بھلائی نہیں ﻻتا، کیا یہ اور وه جو عدل کا حکم دیتا ہے[2] اور ہے بھی سیدھی راه پر، برابر ہوسکتے ہیں؟
77آسمانوں اور زمین کا غیب صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے[1] ۔ اور قیامت کا امر تو ایسا ہی ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا، بلکہ اس سے بھی زیاده قریب۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.[2]
78اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے[1] ، اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے[2] کہ تم شکر گزاری کرو.[3]
79کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو تابع فرمان ہو کر فضا میں ہیں، جنہیں بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور تھامے ہوئے نہیں[1] ، بیشک اس میں ایمان ﻻنے والے لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں.
80اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں میں سکونت کی جگہ بنا دی ہے اور اسی نے تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں کے گھر بنا دیے ہیں، جنہیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو اپنے کوچ کے دن اور اپنے ٹھہرنے کے دن بھی[1] ، اور ان کی اون اور روؤں اور بالوں سے بھی اس نے بہت سے سامان اور ایک وقت مقرره تک کے لیے فائده کی چیزیں بنائیں.[2]
81اللہ ہی نے تمہارے لیے اپنی پیدا کرده چیزوں میں سے سائے بنائے ہیں[1] اور اسی نے تمہارے لیے پہاڑوں میں غار بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے کرتے بنائے ہیں جو تمہیں گرمی سے بچائیں اور ایسے کرتے بھی جو تمہیں لڑائی کے وقت کام آئیں[2]۔ وه اسی طرح اپنی پوری پوری نعمتیں دے رہا ہے کہ تم حکم بردار بن جاؤ.
82پھر بھی اگر یہ منھ موڑے رہیں تو آپ پر صرف کھول کر تبلیﻎ کر دینا ہی ہے.
83یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں.[1]
84اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواه کھڑا کریں گے[1] پھر کافروں کو نہ اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے توبہ کرنے کو کہا جائے گا.
85اور جب یہ ﻇالم عذاب دیکھ لیں گے پھر نہ تو ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وه ڈھیل دیے جائیں گے.[1]
86اور جب مشرکین اپنے شریکوں کو دیکھ لیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار! یہی ہمارے وه شریک ہیں جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے، پس وه انہیں جواب دیں گے کہ تم بالکل ہی جھوٹے ہو.[1]
87اس دن وه سب (عاجز ہوکر) اللہ کے سامنے اطاعت کا اقرار پیش کریں گے اور جو بہتان بازی کیا کرتے تھے وه سب ان سے گم ہو جائے گی.
88جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے روکا ہم انہیں عذاب پر عذاب بڑھاتے جائیں گے[1] ، یہ بدلہ ہوگا ان کی فتنہ پردازیوں کا.
89اور جس دن ہم ہر امت میں انہی میں سے ان کے مقابلے پر گواه کھڑا کریں گے اور تجھے ان سب پر گواه بنا کر ﻻئیں گے[1] اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے[2]، اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لیے.
90اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ﻇلم وزیادتی سے روکتا ہے[1] ، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو.
91اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم آپس میں قول وقرار کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد مت توڑو، حاﻻنکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن ٹھہرا چکے ہو[1] ، تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو بخوبی جان رہا ہے.
92اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈاﻻ[1] ، کہ تم اپنی قسموں کو آپس کے مکر کا باعﺚ ٹھراؤ[2]، اس لیے کہ ایک گروه دوسرے گروه سے بڑھا چڑھا ہوجائے[3]۔ بات صرف یہی ہے کہ اس عہد سے اللہ تمہیں آزما رہا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے لیے قیامت کے دن ہر اس چیز کو کھول کر بیان کر دے گا جس میں تم اختلاف کر رہے تھے.
93اگر اللہ چاہتا تم سب کو ایک ہی گروه بنا دیتا لیکن وه جسے چاہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، یقیناً تم جو کچھ کر رہے ہو اس کے بارے میں باز پرس کی جانے والی ہے.
94اور تم اپنی قسموں کو آپس کی دغابازی کا بہانہ نہ بناؤ۔ پھر تو تمہارے قدم اپنی مضبوطی کے بعد ڈگمگا جائیں گے اور تمہیں سخت سزا برداشت کرنا پڑے گی کیونکہ تم نے اللہ کی راه سے روک دیا اور تمہیں بڑا سخت عذاب ہوگا.[1]
95تم اللہ کے عہد کو تھوڑے مول کے بدلے نہ بیچ دیا کرو۔ یاد رکھو اللہ کے پاس کی چیز ہی تمہارے لیے بہتر ہے بشرطیکہ تم میں علم ہو.
96تمہارے پاس جو کچھ ہے سب فانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے باقی ہے۔ اور صبر کرنے والوں کو ہم بھلے اعمال کا بہترین بدلہ ضرور عطا فرمائیں گے.
97جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے[1] ۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے.
98قرآن پڑھنے کے وقت راندے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناه طلب کرو.[1]
99ایمان والوں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھنے والوں پر اس کا زور مطلقاً نہیں چلتا.
100ہاں اس کا غلبہ ان پر تو یقیناً ہے جو اسی سے رفاقت کریں اور اسے اللہ کا شریک ٹھہرائیں.
101اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے اسے وه خوب جانتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تو تو بہتان باز ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں.[1]
102کہہ دیجئے کہ اسے آپ کے رب کی طرف سے جبرائیل حق کے ساتھ لے کر آئے ہیں[1] تاکہ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے[2] اور مسلمانوں کی رہنمائی اور بشارت ہو جائے.[3]
103ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے[1] اس کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کر رہے ہیں عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے.[2]
104جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے انہیں اللہ کی طرف سے بھی رہنمائی نہیں ہوتی اور ان کے لیے المناک عذاب ہیں.
105جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا۔ یہی لوگ جھوٹے ہیں.[1]
106جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے بجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو[1] ، مگر جو لوگ کھلے دل سے کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور انہی کے لیے بہت بڑا عذاب ہے.[2]
107یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت سے زیاده محبوب رکھا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کافر لوگوں کو راه راست نہیں دکھاتا.[1]
108یہ وه لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور جن کے کانوں پر اور جن کی آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ غافل ہیں.[1]
109کچھ شک نہیں کہ یہی لوگ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہیں.
110جن لوگوں نے فتنوں میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور صبر کا ﺛبوت دیا بیشک تیرا پروردگار ان باتوں کے بعد انہیں بخشنے واﻻ اور مہربانیاں کرنے واﻻ ہے.[1]
111جس دن ہر شخص اپنی ذات کے لیے لڑتا جھگڑتا آئے[1] اور ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور لوگوں پر (مطلقاً) ﻇلم نہ کیا جائے گا.[2]
112اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آرہی تھی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزه چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا.[1]
113ان کے پاس انہی میں سے رسول پہنچا پھر بھی انہوں نے اسے جھٹلایا پس انہیں عذاب نے آدبوچا[1] اور وه تھے ہی ﻇالم.
114جو کچھ حلال اور پاکیزه روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو.[1]
115تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا جائے حرام ہیں[1] ، پھر اگر کوئی شخص بے بس کر دیا جائے نہ وه خواہشمند ہو اور نہ حد سے گزرنے واﻻ ہو تو یقیناً اللہ بخشنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے.[2]
116کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لو[1] ، سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان بازی کرنے والے کامیابی سے محروم ہی رہتے ہیں.
117انہیں بہت معمولی فائده ملتا ہے اور ان کے لئے ہی دردناک عذاب ہے.
118اور یہودیوں پر جو کچھ ہم نے حرام کیا تھا اسے ہم پہلے ہی سے آپ کو سنا چکے ہیں[1] ، ہم نے ان پر ﻇلم نہیں کیا بلکہ وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے رہے.
119جو کوئی جہالت سے برے عمل کرلے پھر توبہ کرلے اور اصلاح بھی کرلے تو پھر آپ کا رب بلا شک وشبہ بڑی بخشش کرنے واﻻ اور نہایت ہی مہربان ہے.
120بےشک ابراہیم پیشوا[1] اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔ وه مشرکوں میں سے نہ تھے.
121اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیده کر لیا تھا اور انہیں راه راست سجھا دی تھی.
122ہم نے اسے دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بےشک وه آخرت میں بھی نیکوکاروں میں ہیں.
123پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں[1] ، جو مشرکوں میں سے نہ تھے.
124ہفتے کے دن کی عظمت تو صرف ان لوگوں کے ذمے ہی ضروری کی گئی تھی جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا[1] ، بات یہ ہے کہ آپ کا پروردگار خود ہی ان میں ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا.
125اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے[1] ، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے.[2]
126اور اگر بدلہ لو بھی تو بالکل اتنا ہی جتنا صدمہ تمہیں پہنچایا گیا ہو اور اگر صبر کرلو تو بےشک صابروں کے لئے یہی بہتر ہے.[1]
127آپ صبر کریں بغیر توفیق الٰہی کے آپ صبر کر ہی نہیں سکتے اور ان کے حال پر رنجیده نہ ہوں اور جو مکر وفریب یہ کرتے رہتے ہیں ان سے تنگ دل نہ ہوں.[1]
128یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے.