المؤمنون
The Believers • 118 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی.[1]
2جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں.[1]
3جو لغویات سے منھ موڑ لیتے ہیں.[1]
4جو زکوٰة ادا کرنے والے ہیں.[1]
5جو اپنی شرمگاہوں کی حفاﻇت کرنے والے ہیں.
6بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے یقیناً یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں.
7جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرجانے والے ہیں.[1]
8جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاﻇت کرنے والے ہیں.[1]
9جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں.[1]
10یہی وارث ہیں.
11جو فردوس کے وارث ہوں گے جہاں وه ہمیشہ رہیں گے.[1]
12یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا.[1]
13پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا.[1]
14پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا۔ پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا[1] ، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا[2]۔ برکتوں واﻻ ہے وه اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے واﻻ ہے.[3]
15اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو.
16پھر قیامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے.
17ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں[1] اور ہم مخلوقات سے غافل نہیں ہیں.[2]
18ہم ایک صحیح انداز سے آسمان سے پانی برساتے ہیں[1] ، پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں[2]، اور ہم اس کے لے جانے پر یقیناً قادر ہیں.[3]
19اسی پانی کے ذریعہ سے ہم تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کردیتے ہیں، کہ تمہارے لئے ان میں بہت سے میوے ہوتے ہیں ان ہی میں سے تم کھاتے بھی ہو.[1]
20اور وه درخت جو طور سینا پہاڑ سے نکلتا ہے جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والے کے لئے سالن ہے.[1]
21تمہارے لئے چوپایوں میں بھی بڑی بھاری عبرت ہے۔ ان کے پیٹوں میں سے ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور بھی بہت سے نفع تمہارے لئے ان میں ہیں ان میں سے بعض بعض کو تم کھاتے بھی ہو.
22اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو.[1]
23یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم (اس سے) نہیں ڈرتے.
24اس کی قوم کے کافر سرداروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، یہ تم پر فضیلت اور بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے[1] ۔ اگر اللہ ہی کو منظور ہوتا تو کسی فرشتے کو اتارتا[2]، ہم نے تو اسے اپنے اگلے باپ دادوں کے زمانے میں سنا ہی نہیں.[3]
25یقیناً اس شخص کو جنون ہے، پس تم اسے ایک وقت مقرر تک ڈھیل دو.[1]
26نوح (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر.[1]
27تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنا۔ جب ہمارا حکم آجائے[1] اور تنور ابل پڑے[2] تو، تو ہر قسم کا ایک ایک جوڑا اس میں رکھ لے[3] اور اپنے اہل کو بھی، مگر ان میں سے جن کی بابت ہماری بات پہلے گزر چکی ہے[4]۔ خبردار جن لوگوں نے ﻇلم کیا ہے ان کے بارے میں مجھ سے کچھ کلام نہ کرنا وه تو سب ڈبوئے جائیں گے.[5]
28جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر باطمینان بیٹھ جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہی ہے جس نے ہمیں ﻇالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی.
29اور کہنا کہ اے میرے رب[1] ! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر ہے اتارنے والوں میں[2].
30یقیناً اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں[1] اور ہم بےشک آزمائش کرنے والے ہیں.[2]
31ان کے بعد ہم نے اور بھی امت پیدا کی.[1]
32پھر ان میں خود ان میں سے (ہی) رسول بھی بھیجا[1] کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں[2]، تم کیوں نہیں ڈرتے؟
33اور سرداران قوم[1] نے جواب دیا، جو کفر کرتے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں خوشحال کر رکھا تھا[2]، کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، تمہاری ہی خوراک یہ بھی کھاتا ہے اور تمہارے پینے کا پانی ہی یہ پیتا ہے.[3]
34اگر تم نے اپنے جیسے ہی انسان کی تابعداری کر لی ہے تو بےشک تم سخت خسارے والے ہو.[1]
35کیا یہ تمہیں اس بات کا وعده کرتا ہے کہ جب تم مرکر صرف خاک اور ہڈی ره جاؤ گے تو تم پھر زنده کئے جاؤ گے.
36نہیں نہیں دور اور بہت دور ہے وه جس کا تم وعده دیئے جاتے ہو.[1]
37(زندگی) تو صرف دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے جیتے رہتے ہیں اور یہ نہیں کہ ہم پھر اٹھائے جائیں گے.
38یہ تو بس ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر جھوٹ (بہتان) باندھ لیا ہے[1] ، ہم تو اس پر ایمان ﻻنے والے نہیں ہیں.
39نبی نے دعا کی کہ پروردگار! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر.[1]
40جواب ملا کہ یہ تو بہت ہی جلد اپنے کئے پر پچھتانے لگیں گے.[1]
41بالﺂخر عدل کے تقاضے کے مطابق چیﺦ[1] نے پکڑ لیا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ کر ڈاﻻ[2]، پس ﻇالموں کے لئے دوری ہو.
42ان کے بعد ہم نے اور بھی بہت سی امتیں پیدا کیں.[1]
43نہ تو کوئی امت اپنے وقت مقرره سے آگے بڑھی اور نہ پیچھے رہی.[1]
44پھر ہم نے لگاتار رسول[1] بھیجے، جب جب اس امت کے پاس اس کا رسول آیا اس نے جھٹلایا، پس ہم نے ایک دوسرے کے پیچھے لگا دیا[2] اور انہیں افسانہ[3] بنا دیا۔ ان لوگوں کو دوری ہے جو ایمان قبول نہیں کرتے.
45پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیل[1] کے ساتھ بھیجا.
46فرعون اور اس کے لشکروں کی طرف، پس انہوں نے تکبر کیا اور تھے ہی وه سرکش لوگ.[1]
47کہنے لگے کہ کیا ہم اپنے جیسے دو شخصوں پر ایمان ﻻئیں؟ حاﻻنکہ خود ان کی قوم (بھی) ہمارے ماتحت[1] ہے.
48پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا آخر وه بھی ہلاک شده لوگوں میں مل گئے.
49ہم نے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (بھی) دی کہ لوگ راه راست پر آجائیں.[1]
50ہم نے ابن مریم اور اس کی والده کو ایک نشانی بنایا[1] اور ان دونوں کو بلند صاف قرار والی اور جاری پانی[2] والی جگہ میں پناه دی.
51اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو[1] تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں.
52یقیناً تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے[1] اور میں ہی تم سب کا رب ہوں، پس تم مجھ سے ڈرتے رہو.
53پھر انہوں نے خود (ہی) اپنے امر (دین) کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیئے، ہر گروه جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر اترا رہا ہے.
54پس آپ (بھی) انہیں ان کی غفلت میں ہی کچھ مدت پڑا رہنے دیں.[1]
55کیا یہ (یوں) سمجھ بیٹھے ہیں؟ کہ ہم جو بھی ان کے مال و اوﻻد بڑھا رہے ہیں.
56وه ان کے لئے بھلائیوں میں جلدی کر رہے ہیں (نہیں نہیں) بلکہ یہ سمجھتے ہی نہیں.
57یقیناً جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں.
58اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں.
59اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے.
60اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وه اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں.[1]
61یہی ہیں جو جلدی جلدی بھلائیاں حاصل کر رہے ہیں اور یہی ہیں جو ان کی طرف دوڑ جانے والے ہیں.
62ہم کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے[1] ، اور ہمارے پاس ایسی کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے، ان کے اوپر کچھ ﻇلم نہ کیا جائے گا.
63بلکہ ان کے دل اس طرف سے غفلت میں ہیں اور ان کے لئے اس کے سوا بھی بہت سے اعمال ہیں[1] جنہیں وه کرنے والے. ہیں
64یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے آسوده حال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیا[1] تو وه بلبلانے لگے.
65آج مت بلبلاؤ یقیناً تم ہمارے مقابلہ پر مدد نہ کئے جاؤ گے.[1]
66میری آیتیں تو تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں[1] پھر بھی تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے بھاگتے تھے.[2]
67اکڑتے اینٹھتے[1] افسانہ گوئی کرتے اسے چھوڑ دیتے تھے.[2]
68کیا انہوں نے اس بات میں غور وفکر ہی نہیں کیا[1] ؟ بلکہ ان کے پاس وه آیا جو ان کے اگلے باپ دادوں کے پاس نہیں آیا تھا؟[2]
69یا انہوں نے اپنے پیغمبر کو پہچانا نہیں کہ اس کے منکر ہو رہے ہیں؟[1]
70یا یہ کہتے ہیں کہ اسے جنون ہے[1] ؟ بلکہ وه تو ان کے پاس حق ﻻیا ہے۔ ہاں ان میں اکثر حق سے چڑنے والے ہیں.[2]
71اگر حق ہی ان کی خواہشوں کا پیرو ہوجائے تو زمین وآسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز درہم برہم ہو جائے[1] ۔ حق تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن وه اپنی نصیحت سے منھ موڑنے والے ہیں.
72کیا آپ ان سے کوئی اجرت چاہتے ہیں؟ یاد رکھیئے کہ آپ کے رب کی اجرت بہت ہی بہتر ہے اور وه سب سے بہتر روزی رساں ہے.
73یقیناً آپ تو انہیں راه راست کی طرف بلا رہے ہیں.
74بےشک جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وه سیدھے راستے سے مڑ جانے والے ہیں.[1]
75اور اگر ہم ان پر رحم فرمائیں اور ان کی تکلیفیں دور کردیں تو یہ تو اپنی اپنی سرکشی میں جم کر اور بہکنے لگیں.[1]
76اور ہم نے انہیں عذاب میں بھی پکڑا تاہم یہ لوگ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی.[1]
77یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازه کھول دیا تو اسی وقت فوراً مایوس ہوگئے.[1]
78وه اللہ ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کئے، مگر تم بہت (ہی) کم شکر کرتے ہو.[1]
79اور وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کرکے زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے.[1]
80اور یہ وہی ہے جو جلاتا اور مارتا ہے اور رات دن کے ردوبدل[1] کا مختار بھی وہی ہے۔ کیا تم کو سمجھ بوجھ نہیں؟[2]
81بلکہ ان لوگوں نے بھی ویسی ہی بات کہی جو اگلے کہتے چلے آئے.
82کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے کیا پھر بھی ہم ضرور اٹھائے جائیں گے؟
83ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے پہلے ہی یہ وعده ہوتا چلا آیا ہے کچھ نہیں یہ تو صرف اگلے لوگوں کے افسانے ہیں.[1]
84پوچھیئے تو سہی کہ زمین اور اس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟ بتلاؤ اگر جانتے ہو؟
85فوراً جواب دیں گے کہ اللہ کی، کہہ دیجیئے کہ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے.
86دریافت کیجیئے کہ ساتوں آسمان کا اور بہت باعظمت عرش کا رب کون ہے؟
87وه لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجیئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟[1]
88پوچھیئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناه دیتا ہے[1] اور جس کے مقابلے میں کوئی پناه نہیں دیا جاتا[2]، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟
89یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے، کہہ دیجیئے پھر تم کدھر سے جادو کر دیئے جاتے ہو؟[1]
90حق یہ ہے کہ ہم نے انہیں حق پہنچا دیا ہے اور یہ بےشک جھوٹے ہیں.
91نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لئے لئے پھرتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔ جو اوصاف یہ بتلاتے ہیں ان سے اللہ پاک (اور بےنیاز) ہے.
92وه غائب حاضر کا جاننے واﻻ ہے اور جو شرک یہ کرتے ہیں اس سے باﻻتر ہے.
93آپ دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! اگر تو مجھے وه دکھائے جس کا وعده انہیں دیا جا رہا ہے.
94تو اے رب! تو مجھے ان ﻇالموں کے گروه میں نہ کرنا.[1]
95ہم جو کچھ وعدے انہیں دے رہے ہیں سب آپ کو دکھا دینے پر یقیناً قادر ہیں.
96برائی کو اس طریقے سے دور کریں جو سراسر بھلائی واﻻ ہو[1] ، جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں ہم بخوبی واقف ہیں.
97اور دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناه چاہتا ہوں.[1]
98اور اے رب! میں تیری پناه چاہتا ہوں کہ وه میرے پاس آجائیں.[1]
99یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے
100کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کر لوں[1] ، ہرگز ایسا نہیں ہوگا[2]، یہ تو صرف ایک قول ہے جس کا یہ قائل[3] ہے، ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے، ان کے دوباره جی اٹھنے کے دن تک.[4]
101پس جب کہ صور پھونک دیا جائے گا اس دن نہ تو آپس کے رشتے دار ہی رہیں گے، نہ آپس کی پوچھ گچھ.[1]
102جن کی ترازو کا پلہ بھاری ہوگیا وه تو نجات والے ہوگئے.
103اور جن کے ترازو کا پلہ ہلکا ہوگیا یہ ہیں وه جنہوں نے اپنا نقصان آپ کر لیا جو ہمیشہ کے لئے جہنم واصل ہوئے.
104ان کے چہروں کو آگ جھلستی رہے گی[1] اور وه وہاں بدشکل بنے ہوئے ہوں گے.[2]
105کیا میری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت نہیں کی جاتی تھیں؟ پھر بھی تم انہیں جھٹلاتے تھے.
106کہیں گے کہ اے پروردگار! ہماری بدبختی ہم پر غالب[1] آگئی (واقعی) ہم تھے ہی گمراه.
107اے ہمارے پروردگار! ہمیں یہاں سے نجات دے اگر اب بھی ہم ایسا ہی کریں تو بےشک ہم ﻇالم ہیں.
108اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھٹکارے ہوئے یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو.
109میرے بندوں کی ایک جماعت تھی جو برابر یہی کہتی رہی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان ﻻچکے ہیں تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما تو سب مہربانوں سے زیاده مہربان ہے.
110(لیکن) تم انہیں مذاق میں ہی اڑاتے رہے یہاں تک کہ (اس مشغلے نے) تم کو میری یاد (بھی) بھلا دی اور تم ان سے مذاق ہی کرتے رہے.
111میں نے آج انہیں ان کے اس صبر کا بدلہ دے دیا ہے کہ وه خاطر خواه اپنی مراد کو پہنچ چکے ہیں.[1]
112اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ تم زمین میں باعتبار برسوں کی گنتی کے کس قدر رہے؟
113وه کہیں گے ایک دن یا ایک دن سے بھی کم، گنتی گننے والوں سے بھی پوچھ لیجیئے.[1]
114اللہ تعالیٰ فرمائے گا فی الواقع تم وہاں بہت ہی کم رہے ہو اے کاش! تم اسے پہلے ہی سے جان لیتے؟[1]
115کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے.
116اللہ تعالیٰ سچا بادشاه ہے وه بڑی بلندی واﻻ ہے[1] ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے.[2]
117جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بےشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں.[1]
118اور کہو کہ اے میرے رب! تو بخش اور رحم کر اور تو سب مہربانوں سے بہتر مہربانی کرنے واﻻ ہے.