النور
The Light • 64 ayahs • Medinan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1یہ ہے وه سورت جو ہم نے نازل فرمائی ہے[1] اور مقرر کردی ہے اور جس میں ہم نے کھلی آیتیں (احکام) اتارے ہیں تاکہ تم یاد رکھو.
2زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ[1] ۔ ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیئے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو[2]۔ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیئے.[3]
3زانی مرد بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے اور سے نکاح نہیں کرتا اور زناکار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کردیا گیا.[1]
4جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواه نہ پیش کرسکیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں.[1]
5ہاں جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں[1] تو اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ اور مہربانی کرنے واﻻ ہے.
6جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لائیں اور ان کا کوئی گواه بجز خود ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ﺛبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وه سچوں میں سے ہیں.
7اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وه جھوٹوں میں سے ہو.[1]
8اور اس عورت سے سزا اس طرح دور ہوسکتی ہے کہ وه چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یقیناً اس کا مرد جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے.
9اور پانچویں دفعہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اگر اس کا خاوند سچوں میں سے ہو.[1]
10اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا[1] (تو تم پر مشقت اترتی) اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے واﻻ باحکمت ہے.
11جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ ﻻئے ہیں[1] یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروه[2] ہے۔ تم اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے[3]۔ ہاں ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناه ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت ہی بڑا ہے.[4]
12اسے سنتے ہی مومن مردوں عورتوں نے اپنے حق میں نیک گمانی کیوں نہ کی اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ تو کھلم کھلا صریح بہتان ہے.[1]
13وه اس پر چار گواه کیوں نہ ﻻئے؟ اور جب گواه نہیں ﻻئے تو یہ بہتان باز لوگ یقیناً اللہ کے نزدیک محض جھوٹے ہیں.
14اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتا تو یقیناً تم نے جس بات کے چرچے شروع کر رکھے تھے اس بارے میں تمہیں بہت بڑا عذاب پہنچتا.
15جب کہ تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منھ سے وه بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق خبر نہ تھی، گو تم اسے ہلکی بات سمجھتے رہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وه بہت بڑی بات تھی.
16تم نے ایسی بات کو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات منھ سے نکالنی بھی ﻻئق نہیں۔ یا اللہ! تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے اور تہمت ہے.[1]
17اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی بھی ایسا کام نہ کرنا اگر تم سچے مومن ہو.
18اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں بیان فرما رہا ہے، اور اللہ تعالیٰ علم و حکمت واﻻ ہے.
19جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں[1] ، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے.
20اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ بڑی شفقت رکھنے واﻻ مہربان ہے[1] ۔ (تو تم پر عذاب اتر جاتا).
21ایمان والو! شیطان کے قدم بقدم نہ چلو۔ جو شخص شیطانی قدموں کی پیروی کرے تو وه تو بےحیائی اور برے کاموں کا ہی حکم کرے گا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالی جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے[1] ۔ اور اللہ سب سننے واﻻ سب جاننے واﻻ ہے.
22تم میں سے جو بزرگی اور کشادگی والے ہیں انہیں اپنے قرابت داروں اور مسکینوں اور مہاجروں کو فی سبیل اللہ دینے سے قسم نہ کھا لینی چاہیئے، بلکہ معاف کردینا اور درگزر کرلینا چاہیئے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف فرما دے[1] ؟ اللہ قصوروں کو معاف فرمانے واﻻ مہربان ہے.
23جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی باایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وه دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے.[1]
24جب کہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے.[1]
25اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وه جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے (اور وہی) ﻇاہر کرنے واﻻ ہے.
26خبیﺚ عورتیں خبیﺚ مردوں کے ﻻئق ہیں اور خبیﺚ مرد خبیﺚ عورتوں کے ﻻئق ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے ﻻئق ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے ﻻئق ہیں[1] ۔ ایسے پاک لوگوں کے متعلق جو کچھ بکواس (بہتان باز) کر رہے ہیں وه ان سے بالکل بری ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی.[2]
27اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو[1] ، یہی تمہارے لئے سراسر بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو.[2]
28اگر وہاں تمہیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ۔ اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ، یہی بات تمہارے لئے پاکیزه ہے، جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے.
29ہاں غیر آباد گھروں میں جہاں تمہارا کوئی فائده یا اسباب ہو، جانے میں تم پر کوئی گناه نہیں[1] ۔ تم جو کچھ بھی ﻇاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے.[2]
30مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں[1] ، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاﻇت رکھیں[2]۔ یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے.
31مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں[1] اور اپنی زینت کو ﻇاہر نہ کریں[2]، سوائے اس کے جو ﻇاہر ہے[3] اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں[4]، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ﻇاہر نہ کریں[5]، سوائے اپنے خاوندوں کے[6] یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے[7] یا اپنے میل جول کی عورتوں کے[8] یا غلاموں کے [9]یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں[10] یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں[11]۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے[12]، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ.[13]
32تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو[1] اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی[2]۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا[3]۔ اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے.
33اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیئے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے[1] یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے، تمہارے غلاموں میں جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں کردیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو[2]۔ اور اللہ نے جو مال تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے انہیں بھی[3] دو، تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو[4] اور جو انہیں مجبور کردے تو اللہ تعالیٰ ان پر جبر کے بعد بخشش دینے واﻻ اور مہربانی کرنے واﻻ ہے.[5]
34ہم نے تمہاری طرف کھلی اور روشن آیتیں اتار دی ہیں اور ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت.
35اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا[1] ، اس کے نور کی مثال مثل ایک طاق کے ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو اور شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو وه چراغ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی خود وه تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے، نور پر نور ہے[2]، اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے جسے چاہے[3]، لوگوں (کے سمجھانے) کو یہ مثالیں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے[4]، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کے حال سے بخوبی واقف ہے.
36ان گھروں میں جن کے بلند کرنے، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے[1] وہاں صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں.[2]
37ایسے لوگ[1] جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی.[2]
38اس ارادے سے کہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلے دے بلکہ اپنے فضل سے اور کچھ زیادتی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بےشمار روزیاں دیتا ہے.[1]
39اور کافروں کے اعمال مثل اس چمکتی ہوئی ریت کے ہیں جو چٹیل میدان میں ہو جسے پیاسا شخص دور سے پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا، ہاں اللہ کو اپنے پاس پاتا ہے جو اس کا حساب پورا پورا چکا دیتا ہے[1] ۔ اللہ بہت جلد حساب کردینے واﻻ ہے.
40یا مثل ان اندھیروں کے ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہہ میں ہوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانﭗ رکھا ہو، پھر اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں۔ الغرض اندھیریاں ہیں جو اوپر تلے پےدرپے ہیں۔ جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی قریب ہے کہ نہ دیکھ سکے[1] ، اور (بات یہ ہے کہ) جسے اللہ تعالیٰ ہی نور نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نہیں ہوتی.[2]
41کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کی کل مخلوق اور پر پھیلائے[1] اڑنے والے کل پرند اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اسے معلوم ہے[2]، لوگ جو کچھ کریں اس سے اللہ بخوبی واقف ہے.[3]
42زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے.[1]
43کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انہیں ملاتا ہے پھر انہیں تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے، پھر آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان میں سے مینہ برستا ہے۔ وہی آسمان کی جانب سے اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے[1] ، پھر جنہیں چاہے ان کے پاس انہیں برسائے اور جن سے چاہے ان سے انہیں ہٹا دے[2]۔ بادل ہی سے نکلنے والی بجلی کی چمک ایسی ہوتی ہے کہ گویا اب آنکھوں کی روشنی لے چلی.[3]
44اللہ تعالیٰ ہی دن اور رات کو ردوبدل کرتا رہتا ہے[1] آنکھوں والوں کے لیے تو اس میں یقیناً بڑی بڑی عبرتیں ہیں.
45تمام کے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پانی سے پیدا کیا ہےان میں سے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں[1] ، بعض دو پاؤں پر چلتے ہیں[2]۔ بعض چار پاؤں پر چلتے ہیں[3]، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے[4]۔ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.
46بلاشک و شبہ ہم نے روشن اور واضح آیتیں اتار دی ہیں اللہ تعالیٰ جسے چاہے سیدھی راه دکھا دیتا ہے.[1]
47اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول پر ایمان ﻻئے اور فرماں بردار ہوئے، پھر ان میں سے ایک فرقہ اس کے بعد بھی پھر جاتا ہے۔ یہ ایمان والے ہیں (ہی) نہیں.[1]
48جب یہ اس بات کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے جھگڑے چکا دے تو بھی ان کی ایک جماعت منھ موڑنے والی بن جاتی ہے.
49ہاں اگر ان ہی کو حق پہنچتا ہو تو مطیع وفرماں بردار ہو کر اس کی طرف چلے آتے ہیں.[1]
50کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے؟ یا یہ شک وشبہ میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ان کی حق تلفی نہ کریں؟ بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی بڑے ﻇالم ہیں.[1]
51ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کردے تو وه کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا[1] ۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں.
52جو بھی اللہ تعالیٰ کی، اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، خوف الٰہی رکھیں اور اس کے عذابوں سے ڈرتے رہیں، وہی نجات پانے والے ہیں.[1]
53بڑی پختگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں[1] کہ آپ کا حکم ہوتے ہی نکل کھڑے ہوں گے۔ کہہ دیجیئے کہ بس قسمیں نہ کھاؤ (تمہاری) اطاعت (کی حقیقت) معلوم ہے[2]۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے.[3]
54کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، رسول اللہ کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر ﻻزم کردیا گیا ہے[1] اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے[2] ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو[3]۔ سنو رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے.[4]
55تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان ﻻئے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالیٰ وعده فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لئے وه پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف وخطر کو وه امن وامان سے بدل دے گا[1] ، وه میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے[2]۔ اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وه یقیناً فاسق ہیں.[3]
56نماز کی پابندی کرو، زکوٰة ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی فرمانبرداری میں لگے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے.[1]
57یہ خیال آپ کبھی بھی نہ کرنا کہ منکر لوگ زمین میں (ادھر ادھر بھاگ کر) ہمیں ہرا دینے والے ہیں[1] ، ان کا اصلی ٹھکانا تو جہنم ہے جو یقیناً بہت ہی برا ٹھکانا ہے.
58ایمان والو! تم سے تمہاری ملکیت کے غلاموں کو اور انہیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں (اپنے آنے کی) تین وقتوں میں اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔ نماز فجر سے پہلے اور ﻇہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد[1] ، یہ تینوں وقت تمہاری (خلوت) اور پرده کے ہیں[2]۔ ان وقتوں کے ماسوا نہ تو تم پر کوئی گناه ہے نہ ان پر[3]۔ تم سب آپس میں ایک دوسرے کے پاس بکثرت آنے جانے والے ہو[4] (ہی)، اللہ اسی طرح کھول کھول کر اپنے احکام تم سے بیان فرما رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ پورے علم اور کامل حکمت واﻻ ہے.
59اور تمہارے بچے (بھی) جب بلوغت کو پہنچ جائیں تو جس طرح ان کے اگلے لوگ اجازت مانگتے ہیں انہیں بھی اجازت مانگ کر آنا چاہیئے[1] ، اللہ تعالیٰ تم سے اسی طرح اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی علم وحکمت واﻻ ہے.
60بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید (اور خواہش ہی) نہ رہی ہو وه اگر اپنے کپڑے اتار رکھیں تو ان پر کوئی گناه نہیں بشرطیکہ وه اپنا بناؤ سنگھار ﻇاہر کرنے والیاں نہ ہوں[1] ، تاہم اگر ان سے بھی احتیاط رکھیں تو ان کے لئے بہت افضل ہے[2]، اور اللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے.
61اندھے پر، لنگڑے پر، بیمار پر اور خود تم پر (مطلقاً) کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھالو یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے[1] یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خاﻻؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوستوں[2] کے گھروں سے۔ تم پر اس میں بھی کوئی گناه نہیں کہ تم سب ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ پس جب تم گھروں میں جانے لگو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرلیا کرو[3] دعائے خیر ہے جو بابرکت اور پاکیزه ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شده، یوں ہی اللہ تعالیٰ کھول کھول کر تم سے اپنے احکام بیان فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھ لو.[4]
62باایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے۔ جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں وه جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ﻻچکے ہیں[1] ۔ پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا مانگیں، بےشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے.
63تم اللہ تعالیٰ کے نبی کے بلانے کو ایسا بلاوا نہ کرلو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو ہوتا[1] ہے۔ تم میں سے انہیں اللہ خوب جانتا ہے جو نظر بچا کر چپکے سے سرک جاتے ہیں[2]۔ سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے[3] یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے.
64آگاه ہو جاؤ کہ آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے[1] ۔ جس روش پر تم ہو وه اسے بخوبی جانتا ہے[2]، اور جس دن یہ سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اس دن ان کو ان کے کئے سے وه خبردار کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے واﻻ ہے.