الحجر
The Rocky Tract • 99 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1الرٰ، یہ کتاب الٰہی کی آیتیں ہیں اور کھلے اور روشن قرآن کی.[1]
2وه بھی وقت ہوگا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے.[1]
3آپ انہیں کھاتا، نفع اٹھاتا اور (جھوٹی) امیدوں میں مشغول ہوتا چھوڑ دیجئے عنقریب یہ خود جان لیں گے.[1]
4کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لیے مقرره نوشتہ تھا.
5کوئی گروه اپنی موت سے نہ آگے بڑھتا ہے نہ پیچھے رہتا ہے.[1]
6انہوں نے کہا کہ اے وه شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے یقیناً تو تو کوئی دیوانہ ہے.
7اگر تو سچا ہی ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں ﻻتا.[1]
8ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں اور اس وقت وه مہلت دیئے گئے نہیں ہوتے.[1]
9ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافﻆ ہیں.[1]
10ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں میں بھی اپنے رسول (برابر) بھیجے.
11اور (لیکن) جو بھی رسول آتا وه اس کا مذاق اڑاتے.[1]
12گناه گاروں کے دلوں میں ہم اسی طرح یہی رچا دیا کرتے ہیں.[1]
13وه اس پر ایمان نہیں ﻻتے اور یقیناً اگلوں کا طریقہ گزرا ہوا ہے.[1]
14اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں.
15تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے.[1]
16یقیناً ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں[1] اور دیکھنے والوں کے لیے اسے سجا دیا ہے.
17اور اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھا ہے.[1]
18ہاں مگر جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرے اس کے پیچھے دہکتا ہوا (کھلا شعلہ) لگتا ہے.[1]
19اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور اس پر (اٹل) پہاڑ ڈال دیئے ہیں، اور اس میں ہم نے ہر چیز ایک معین مقدار سے اگا دی ہے.[1]
20اور اسی میں ہم نے تمہاری روزیاں بنا دی ہیں[1] اور جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو.[2]
21اور جتنی بھی چیزیں ہیں ان سب کے خزانے ہمارے پاس ہیں[1] ، اور ہم ہر چیز کو اس کے مقرره انداز سے اتارتے ہیں.
22اور ہم بھیجتے ہیں بوجھل ہوائیں[1] ، پھر آسمان سے پانی برسا کر وه تمہیں پلاتے ہیں اور تم اس کا ذخیره کرنے والے نہیں ہو.[2]
23ہم ہی جلاتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی (بالﺂخر) وارث ہیں.
24اور تم میں سے آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے بھی ہمارے علم میں ہیں.
25آپ کا رب سب لوگوں کو جمع کرے گا یقیناً وه بڑی حکمتوں واﻻ بڑے علم واﻻ ہے.
26یقیناً ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے، پیدا فرمایا ہے.[1]
27اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ[1] سے پیدا کیا.
28اور جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے واﻻ ہوں.
29تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا.[1]
30چنانچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجده کر لیا.
31مگر ابلیس کے۔ کہ اس نے سجده کرنے والوں میں شمولیت کرنے سے (صاف) انکار کر دیا.
32(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ تو سجده کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟
33وه بوﻻ کہ میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجده کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے.[1]
34فرمایا اب تو بہشت سے نکل جا کیوں کہ تو رانده درگاه ہے.
35اور تجھ پر میری پھٹکار ہے قیامت کے دن تک.
36کہنے لگا کہ اے میرے رب! مجھے اس دن تک کی ڈھیل دے کہ لوگ دوباره اٹھا کھڑے کیے جائیں.
37فرمایا کہ اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت ملی ہے.
38روز مقرر کے وقت تک کی.
39(شیطان نے) کہا کہ اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراه کیا ہے مجھے بھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کے لئے معاصی کو مزین کروں گا اور ان سب کو بہکاؤں گا بھی.
40سوائے تیرے ان بندوں کے جو منتخب کر لیے گئے ہیں.
41ارشاد ہوا کہ ہاں یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راه ہے.[1]
42میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہیں[1] ، لیکن ہاں جو گمراه لوگ تیری پیروی کریں.
43یقیناً ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے.[1]
44جس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لیے ان کا ایک حصہ بٹا ہوا ہے.[1]
45پرہیزگار جنتی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے.[1]
46(ان سے کہا جائے گا) سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ.[1]
47ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش وکینہ تھا، ہم سب کچھ نکال دیں گے[1] ، وه بھائی بھائی بنے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے.
48نہ تو وہاں انہیں کوئی تکلیف چھو سکتی ہے اور نہ وه وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے.
49میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہوں.
50اور ساتھ ہی میرے عذاب بھی نہایت دردناک ہیں.
51انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا (بھی) حال سنا دو.
52کہ جب انہوں نے ان کے پاس آکر سلام کہا تو انہوں نے کہا کہ ہم کو تو تم سے ڈر لگتا ہے.[1]
53انہوں نے کہا ڈرو نہیں، ہم تجھے ایک صاحب علم فرزند کی بشارت دیتے ہیں.
54کہا، کیا اس بڑھاپے کے آجانے کے بعد تم مجھے خوشخبری دیتے ہو! یہ خوشخبری تم کیسے دے رہے ہو؟
55انہوں نے کہا ہم آپ کو بالکل سچی خوشخبری سناتے ہیں آپ مایوس لوگوں میں شامل نہ ہوں.[1]
56کہا اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے ناامید تو صرف گمراه اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں.[1]
57پوچھا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا ایسا کیا اہم کام ہے؟[1]
58انہوں نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں.
59مگر خاندان لوط کہ ہم ان سب کو تو ضرور بچا لیں گے.
60سوائے اس (لوط) کی بیوی کے کہ ہم نے اسے رکنے اور باقی ره جانے والوں میں مقرر کر دیا ہے.
61جب بھیجے ہوئے فرشتے آل لوط کے پاس پہنچے.
62تو انہوں (لوط علیہ السلام) نے کہا تم لوگ تو کچھ انجان سے معلوم ہو رہے ہو.[1]
63انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم تیرے پاس وه چیز ﻻئے ہیں جس میں یہ لوگ شک شبہ کر رہے تھے.[1]
64ہم تو تیرے پاس (صریح) حق ﻻئے ہیں اور ہیں بھی بالکل سچے.[1]
65اب تو اپنے خاندان سمیت اس رات کے کسی حصہ میں چل دے اور آپ ان کے پیچھے رہنا[1] ، اور (خبردار) تم میں سے کوئی (پیچھے) مڑکر بھی نہ دیکھے اور جہاں کا تمہیں حکم کیا جارہا ہے وہاں چلے جان.
66اور ہم نے اس کی طرف اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی.[1]
67اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے.[1]
68(لوط علیہ السلام نے) کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں تم مجھے رسوا نہ کرو.[1]
69اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو.
70وه بولے کیا ہم نے تجھے دنیا بھر (کی ٹھیکیداری) سے منع نہیں کر رکھا؟[1]
71(لوط علیہ السلام نے) کہا اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری بچیاں موجود ہیں.[1]
72تیری عمر کی قسم! وه تو اپنی بدمستی میں سرگرداں تھے.[1]
73پس سورج نکلتے نکلتے انہیں ایک بڑے زور کی آواز نے پکڑ لیا.[1]
74بالﺂخر ہم نے اس شہر کو اوپر تلے کر دیا[1] اور ان لوگوں پر کنکر والے پتھر[2] برسائے.
75بلاشبہ بصیرت والوں کے لیے[1] اس میں بہت سی نشانیاں ہیں.
76یہ بستی ایسی راه پر ہے جو برابر چلتی رہتی (عام گذرگاه) ہے.[1]
77اور اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانی ہے.
78اور بے شک اَیکَہ بستی کے رہنے والے يقيناً ﻇالم تھے.[1]
79جن سے (آخر) ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں شہر کھلے (عام) راستے پر ہیں.[1]
80اور حِجر والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا.[1]
81اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں بھی عطا فرمائیں (لیکن) تاہم وه ان سے روگردانی ہی کرتے رہے.[1]
82یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، بے خوف ہوکر.[1]
83آخر انہیں بھی صبح ہوتے ہوتے چنگھاڑنے آدبوچا.[1]
84پس ان کی کسی تدبیروعمل نے انہیں کوئی فائده نہ دیا.
85ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو حق کے ساتھ ہی پیدا فرمایا ہے[1] ، اور قیامت ضرور ضرور آنے والی ہے۔ پس تو حسن وخوبی (اور اچھائی) سے درگزر کر لے.
86یقیناً تیرا پروردگار ہی پیدا کرنے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے.
87یقیناً ہم نے آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں.[1] کہ دہرائی جاتی ہیں اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے.
88آپ ہر گز اپنی نظریں اس چیز کی طرف نہ دوڑائیں، جس سے ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو بہره مند کر رکھا ہے، نہ ان پر آپ افسوس کریں اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رہیں.[1]
89اور کہہ دیجئے کہ میں تو کھلم کھلا ڈرانے واﻻ ہوں.
90جیسے کہ ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا.[1]
91جنہوں نے اس کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے.
92قسم ہے تیرے پالنے والے کی! ہم ان سب سے ضرور باز پرس کریں گے.
93ہر اس چیز کی جو وه کرتے تھے.
94پس آپ[1] اس حکم کو جو آپ کو کیا جارہا ہے کھول کر سنا دیجئے! اور مشرکوں سے منھ پھیر لیجئے.
95آپ سے جو لوگ مسخراپن کرتے ہیں ان کی سزا کے لیے ہم کافی ہیں.
96جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود مقرر کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا.
97ہمیں خوب علم ہے کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے.
98آپ اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہیں اور سجده کرنے والوں میں شامل ہو جائیں.
99اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے.[1]