القيامة
The Resurrection • 40 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی.[1]
2اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے واﻻ ہو.[1]
3کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں.[1]
4ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں.[1]
5بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے.[1]
6پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا.[1]
7پس جس وقت کہ نگاه پتھرا جائے گی.[1]
8اور چاند بے نور ہو جائے گا.[1]
9اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے.[1]
10اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟[1]
11نہیں نہیں کوئی پناہ گاه نہیں.[1]
12آج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاه ہے.[1]
13آج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاه کیا جائے گا.[1]
14بلکہ انسان خود اپنے اوپر آپ حجت ہے.[1]
15اگر چہ کتنے ہی بہانے پیش کرے.[1]
16(اے نبی) آپ قرآن کو جلدی (یاد کرنے) کے لیے اپنی زبان کو حرکت[1] نہ دیں.
17اس کا جمع کرنا اور (آپ کی زبان سے) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے.[1]
18ہم جب اسے پڑھ[1] لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں.[2]
19پھر اس کا واضح کر دینا ہمارے ذمہ ہے.[1]
20نہیں نہیں تم جلدی ملنے والی (دنیا) کی محبت رکھتے ہو.
21اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو.[1]
22اس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے.
23اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے.[1]
24اور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے.[1]
25سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے واﻻ معاملہ[1] کیا جائے گا.
26نہیں نہیں[1] جب روح ہنسلی تک[2] پہنچے گی.
27اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک[1] کرنے واﻻ ہے؟
28اور جان لیا اس نے کہ یہ وقت جدائی ہے.[1]
29اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی.[1]
30آج تیرے پروردگار کی طرف چلنا ہے.
31اس نے نہ تو تصدیق کی نہ نماز ادا کی.[1]
32بلکہ جھٹلایا اور روگردانی کی.[1]
33پھر اپنے گھر والوں کے پاس اتراتا ہوا گیا.[1]
34افسوس ہے تجھ پر حسرت ہے تجھ پر.
35وائے ہے اور خرابی ہے تیرے لیے.[1]
36کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا.[1]
37کیا وه ایک گاڑھے پانی کا قطره نہ تھا جو ٹپکایا گیا تھا؟
38پھر وه لہو کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست بنا دیا.[1]
39پھر اس سے جوڑے یعنی نر وماده بنائے.
40کیا (اللہ تعالیٰ) اس (امر) پر قادر نہیں کہ مردے کو زنده کردے.[1]