السجدة
The Prostration • 30 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1الم.
2بلاشبہ اس کتاب کا اتارنا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے.[1]
3کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے[1] ۔ (نہیں نہیں) بلکہ یہ تیرے رب تعالیٰ کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں آیا[2]۔ تاکہ وه راه راست پر آجائیں.
4اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے آسمان وزمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر قائم ہوا[1] ، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی مددگار اور سفارشی نہیں[2]۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے.[3]
5وه آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے[1] ۔ پھر (وه کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازه تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے.[2]
6یہی ہے چھپے کھلے کا جاننے واﻻ، زبردست غالب بہت ہی مہربان.
7جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی[1] اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی.[2]
8پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی.[1]
9جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی[1] ، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے[2] (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو.[3]
10انہوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں مل جائیں[1] گے کیا پھر نئی پیدائش میں آجائیں گے؟ بلکہ (بات یہ ہے) کہ وه لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں.
11کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے[1] . پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے.
12کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں[1] گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب[2] تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں.[3]
13اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب[1] فرما دیتے، لیکن میری یہ بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پر کردوں گا.[2]
14اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزه چکھو، ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا[1] اور اپنے کیے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ابدی عذاب کا مزه چکھو.
15ہماری آیتوں پر وہی ایمان ﻻتے ہیں[1] جنہیں جب کبھی ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو وه سجدے میں گر پڑتے ہیں[2] اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں[3] اور تکبر نہیں کرتے ہیں.[4]
16ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں[1] اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں[2] اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں.[3]
17کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے[1] ، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے.[2]
18کیا وه جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو[1] ؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے.
19جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وه کرتے تھے.
20لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے[1] ۔ اور کہہ دیا جائے گا کہ[2] اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو.
21بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب[1] اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وه لوٹ آئیں.[2]
22اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے وعﻆ کیا گیا پھر[1] بھی اس نے ان سے منھ پھیر لیا، (یقین مانو) کہ ہم بھی گناه گاروں سے انتقام لینے والے ہیں.
23بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس آپ کو ہرگز اس کی ملاقات میں شک[1] نہ کرنا چاہئے اور ہم نے اسے[2] بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ بنایا.
24اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے، اور وه ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے.[1]
25آپ کا رب ان (سب) کے درمیان ان (تمام) باتوں کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا جن میں وه اختلاف کر رہے ہیں.[1]
26کیا اس بات نے بھی انہیں ہدایت نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں[1] ۔ اس میں تو (بڑی) بڑی نشانیاں ہیں۔ کیا پھر بھی یہ نہیں سنتے؟
27کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم پانی کو بنجر (غیر آباد) زمین کی طرف بہا کر لے جاتے ہیں پھر اس سے ہم کھیتیاں نکالتے ہیں جسے ان کے چوپائے اور یہ خود کھاتے ہیں[1] ، کیا پھر بھی یہ نہیں دیکھتے؟
28اور کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ).[1]
29جواب دے دو کہ فیصلے والے دن ایمان ﻻنا بے ایمانوں کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی.[1]
30اب آپ ان کا خیال چھوڑ دیں[1] اور منتظر رہیں[2]۔ یہ بھی منتظر ہیں.[3]