Al-Muddaththir

المدثر

The Cloaked One56 ayahsMeccan

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡمُدَّثِّرُ﴿١

1اے کپڑا اوڑھنے والے.[1]

قُمۡ فَأَنذِرۡ﴿٢

2کھڑا ہوجا اور آگاه کردے.[1]

وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ﴿٣

3اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر.

وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ﴿٤

4اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر.[1]

وَٱلرُّجۡزَ فَٱهۡجُرۡ﴿٥

5ناپاکی کو چھوڑ دے.[1]

وَلَا تَمۡنُن تَسۡتَكۡثِرُ﴿٦

6اور احسان کرکے زیاده لینے کی خواہش نہ کر.[1]

وَلِرَبِّكَ فَٱصۡبِرۡ﴿٧

7اور اپنے رب کی راه میں صبر کر.

فَإِذَا نُقِرَ فِي ٱلنَّاقُورِ﴿٨

8پس جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی.

فَذَٰلِكَ يَوۡمَئِذٖ يَوۡمٌ عَسِيرٌ﴿٩

9تو وه دن بڑا سخت دن ہوگا.

عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ غَيۡرُ يَسِيرٖ﴿١٠

10جو کافروں پر آسان نہ ہوگا.[1]

ذَرۡنِي وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيدٗا﴿١١

11مجھے اور اسے چھوڑ دے جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے.[1]

وَجَعَلۡتُ لَهُۥ مَالٗا مَّمۡدُودٗا﴿١٢

12اور اسے بہت سا مال دے رکھا ہے.

وَبَنِينَ شُهُودٗا﴿١٣

13اور حاضر باش فرزند بھی.[1]

وَمَهَّدتُّ لَهُۥ تَمۡهِيدٗا﴿١٤

14اور میں نے اسے بہت کچھ کشادگی دے رکھی ہے.[1]

ثُمَّ يَطۡمَعُ أَنۡ أَزِيدَ﴿١٥

15پھر بھی اس کی چاہت ہے کہ میں اسے اور زیاده دوں.[1]

كَلَّآۖ إِنَّهُۥ كَانَ لِأٓيَٰتِنَا عَنِيدٗا﴿١٦

16نہیں نہیں، [1] وه ہماری آیتوں کا مخالف ہے.[2]

سَأُرۡهِقُهُۥ صَعُودًا﴿١٧

17عنقریب میں اسے ایک سخت چڑھائی چڑھاؤں گا.[1]

إِنَّهُۥ فَكَّرَ وَقَدَّرَ﴿١٨

18اس نے غور کرکے تجویز کی.[1]

فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴿١٩

19اسے ہلاکت ہو کیسی (تجویز) سوچی؟

ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴿٢٠

20وه پھر غارت ہو کس طرح اندازه کیا.[1]

ثُمَّ نَظَرَ﴿٢١

21اس نے پھر دیکھا.[1]

ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴿٢٢

22پھر تیوری چڑھائی اور منھ بنایا.[1]

ثُمَّ أَدۡبَرَ وَٱسۡتَكۡبَرَ﴿٢٣

23پھر پیچھے ہٹ گیا اور غرور کیا.[1]

فَقَالَ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ يُؤۡثَرُ﴿٢٤

24اور کہنے لگا تو یہ صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے.[1]

إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا قَوۡلُ ٱلۡبَشَرِ﴿٢٥

25سوائے انسانی کلام کے کچھ بھی نہیں ہے.

سَأُصۡلِيهِ سَقَرَ﴿٢٦

26میں عنقریب اسے دوزخ میں ڈالوں گا.

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا سَقَرُ﴿٢٧

27اور تجھے کیا خبر کہ دوزخ کیا چیز ہے؟[1]

لَا تُبۡقِي وَلَا تَذَرُ﴿٢٨

28نہ وه باقی رکھتی ہے نہ چھوڑتی ہے.[1]

لَوَّاحَةٞ لِّلۡبَشَرِ﴿٢٩

29کھال کو جھلسا دیتی ہے.

عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴿٣٠

30اور اس میں انیس (فرشتے مقرر) ہیں.[1]

وَمَا جَعَلۡنَآ أَصۡحَٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَٰٓئِكَةٗۖ وَمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ إِلَّا فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيَسۡتَيۡقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَيَزۡدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِيمَٰنٗا وَلَا يَرۡتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡكَٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَمَا يَعۡلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَۚ وَمَا هِيَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡبَشَرِ﴿٣١

31ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے رکھے ہیں۔ اور ہم نے ان کی تعداد صرف کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کی ہے[1] تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں[2]، اوراہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے[3] اور اہل کتاب اور اہل ایمان شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے وه اور کافر کہیں کہ اس بیان سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے[4]؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے[5]۔ تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا[6]، یہ تو کل بنی آدم کے لیے سراسر پند ونصیحت ہے.[7]

كَلَّا وَٱلۡقَمَرِ﴿٣٢

32سچ کہتا ہوں[1] قسم ہے چاند کی.

وَٱلَّيۡلِ إِذۡ أَدۡبَرَ﴿٣٣

33اور رات کی جب وه پیچھے ہٹے.

وَٱلصُّبۡحِ إِذَآ أَسۡفَرَ﴿٣٤

34اور صبح کی جب کہ روشن ہو جائے.

إِنَّهَا لَإِحۡدَى ٱلۡكُبَرِ﴿٣٥

35کہ (یقیناً وه جہنم) بڑی چیزوں میں سے ایک ہے.[1]

نَذِيرٗا لِّلۡبَشَرِ﴿٣٦

36بنی آدم کو ڈرانے والی.

لِمَن شَآءَ مِنكُمۡ أَن يَتَقَدَّمَ أَوۡ يَتَأَخَّرَ﴿٣٧

37(یعنی) اسے[1] جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے.[2]

كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِينَةٌ﴿٣٨

38ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے.[1]

إِلَّآ أَصۡحَٰبَ ٱلۡيَمِينِ﴿٣٩

39مگر دائیں ہاتھ والے.[1]

فِي جَنَّٰتٖ يَتَسَآءَلُونَ﴿٤٠

40کہ وه بہشتوں میں (بیٹھے ہوئے) گناه گاروں سے.

عَنِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ﴿٤١

41سوال کرتے ہوں گے.[1]

مَا سَلَكَكُمۡ فِي سَقَرَ﴿٤٢

42تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈاﻻ.

قَالُواْ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّينَ﴿٤٣

43وه جواب دیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے.

وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ ٱلۡمِسۡكِينَ﴿٤٤

44نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے.[1]

وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلۡخَآئِضِينَ﴿٤٥

45اور ہم بحﺚ کرنے والے (انکاریوں) کا ساتھ دے کر بحﺚ مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے.[1]

وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ ٱلدِّينِ﴿٤٦

46اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے.

حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلۡيَقِينُ﴿٤٧

47یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی.[1]

فَمَا تَنفَعُهُمۡ شَفَٰعَةُ ٱلشَّٰفِعِينَ﴿٤٨

48پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی.[1]

فَمَا لَهُمۡ عَنِ ٱلتَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِينَ﴿٤٩

49انہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہ نصیحت سے منھ موڑ رہے ہیں.

كَأَنَّهُمۡ حُمُرٞ مُّسۡتَنفِرَةٞ﴿٥٠

50گویا کہ وه بِدکے ہوئے گدھے ہیں.

فَرَّتۡ مِن قَسۡوَرَةِۭ﴿٥١

51جو شیر سے بھاگے ہوں.[1]

بَلۡ يُرِيدُ كُلُّ ٱمۡرِيٕٖ مِّنۡهُمۡ أَن يُؤۡتَىٰ صُحُفٗا مُّنَشَّرَةٗ﴿٥٢

52بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں.[1]

كَلَّاۖ بَل لَّا يَخَافُونَ ٱلۡأٓخِرَةَ﴿٥٣

53ہرگز ایسا نہیں (ہوسکتا بلکہ) یہ قیامت سے بے خوف ہیں.[1]

كَلَّآ إِنَّهُۥ تَذۡكِرَةٞ﴿٥٤

54سچی بات تو یہ ہے کہ یہ (قرآن) ایک نصیحت ہے.[1]

فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ﴿٥٥

55اب جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے.

وَمَا يَذۡكُرُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ هُوَ أَهۡلُ ٱلتَّقۡوَىٰ وَأَهۡلُ ٱلۡمَغۡفِرَةِ﴿٥٦

56اور وه اس وقت نصیحت حاصل کریں گے جب اللہ تعالیٰ چاہے[1] ، وه اسی ﻻئق ہے کہ اس سے ڈریں اور اس ﻻئق بھی کہ وه بخشے.[2]

RELATED SURAHS