الفجر
The Dawn • 30 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1قسم ہے فجر کی![1]
2اور دس راتوں کی![1]
3اور جفت اور طاق کی![1]
4اور رات کی جب وه چلنے لگے.[1]
5کیا ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے.[1]
6کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا.[1]
7ستونوں والے ارم کے ساتھ.[1]
8جس کی مانند (کوئی قوم) ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی.[1]
9اور ثمودیوں کے ساتھ جنہوں نے وادی میں بڑے بڑے پتھر تراشے تھے.[1]
10اور فرعون کے ساتھ جو میخوں واﻻ تھا.[1]
11ان سبھوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا.
12اور بہت فساد مچا رکھا تھا.
13آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا.[1]
14یقیناً تیرا رب گھات میں ہے.[1]
15انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت ونعمت دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا.[1]
16اور جب وه اس کو آزماتا ہے اس کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے میری اہانت کی (اور ذلیل کیا).[1]
17ایسا ہرگز نہیں[1] بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے.[2]
18اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے.
19اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو.[1]
20اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو.[1]
21یقیناً[1] جس وقت زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی.
22اور تیرا رب (خود) آجائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آ جائیں گے).[1]
23اور جس دن جہنم بھی ﻻئی جائے گی[1] اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر آج اس کے سمجھنے کا فائده کہاں؟[2]
24وه کہے گا کہ کاش کہ میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا.[1]
25پس آج اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کا نہ ہوگا.
26نہ اسکی قید وبند جیسی کسی کی قید وبند ہوگی.[1]
27اے اطمینان والی روح.
28تو اپنے رب کی طرف[1] لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش.
29پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا.
30اور میری جنت میں چلی جا.