نوح
Noah • 28 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف[1] بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو (اور خبردار کردو) اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے.[2]
2(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میری قوم! میں تمہیں صاف صاف ڈرانے واﻻ ہوں.[1]
3کہ تم اللہ کی عبادت کرو[1] اور اسی سے ڈرو[2] اور میرا کہا مانو.[3]
4تو وه تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرره تک چھوڑ دے گا[1] ۔ یقیناً اللہ کا وعده جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا[2]۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی.[3]
5(نوح علیہ السلام نے) کہا اے میرے پرورگار! میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف بلایا ہے.[1]
6مگر میرے بلانے سے یہ لوگ اور زیاده بھاگنے لگے.[1]
7میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا[1] انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں[2] اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا[3] اور اڑ گئے[4] اور بڑا تکبر کیا.[5]
8پھر میں نے انہیں بﺂواز بلند بلایا.
9اور بیشک میں نےان سے علانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی.[1]
10اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ[1] (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے واﻻ ہے.[2]
11وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا.[1]
12اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اوﻻد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا.[1]
13تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیده نہیں رکھتے.[1]
14حاﻻنکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے[1] پیدا کیا ہے.
15کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے ہیں.[1]
16اور ان میں چاند کو جگمگاتا بنایا ہے[1] اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے.[2]
17اور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے[1] (اور پیدا کیا ہے).
18پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور (ایک خاص طریقہ) سے پھر نکالے گا.[1]
19اور تمہارے لیے زمین کو اللہ تعالیٰ نے فرش بنادیا ہے.[1]
20تاکہ تم اس کی کشاده راہوں میں چلو پھرو.[1]
21نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! ان لوگوں نے میری تو نافرمانی کی[1] اور ایسوں کی فرمانبرداری کی جن کے مال واوﻻد نے ان کو (یقیناً) نقصان ہی میں بڑھایا ہے.[2]
22اور ان لوگوں نے بڑا سخت فریب کیا.[1]
23اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا).[1]
24اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراه کیا (الٰہی) تو ان ﻇالموں کی گمراہی اور بڑھا.[1]
25یہ لوگ بہ سبب[1] اپنے گناہوں کے ڈبو دیئے گئے اور جہنم میں پہنچا دیئے گئے اور اللہ کے سوا اپنا کوئی مددگار انہوں نے نہ پایا.
26اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے واﻻ نہ چھوڑ.[1]
27اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو (یقیناً) یہ تیرے (اور) بندوں کو (بھی) گمراه کر دیں گے اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں ہی کو جنم دیں گے.
28اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے[1] اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا.[2]