الجن
The Jinn • 28 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت[1] نے (قرآن) سنا اور کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے.[2]
2جو راه راست کے طرف رہنمائی کرتا ہے[1] ۔ ہم اس پر ایمان ﻻ چکے[2] (اب) ہم ہرگز کسی کو بھی اپنے رب[3] کا شریک نہ بنائیں گے.
3اور بیشک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے نہ اس نے کسی کو (اپنی) بیوی بنایا ہے نہ بیٹا.[1]
4اور یہ کہ ہم میں کا بیوقوف اللہ کے بارے میں خلاف حق باتیں کہا کرتا تھا.[1]
5اور ہم تو یہی سمجھتے رہے کہ ناممکن ہے کہ انسانوں اور جنات اللہ پر جھوٹی باتیں لگائیں.[1]
6بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناه طلب کیا کرتے تھے[1] جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے.[2]
7اور (انسانوں) نے بھی تم جنوں کی طرح گمان کر لیا تھا کہ اللہ کسی کو نہ بھیجے گا (یا کسی کو دوباره زنده نہ کرے گا).[1]
8اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت چوکیداروں اور سخت شعلوں سے پر پایا.[1]
9اس سے پہلے ہم باتیں سننے کے لیے آسمان میں جگہ جگہ بیٹھ جایا کرتے تھے[1] ۔ اب جو بھی کان لگاتا ہے وه ایک شعلے کو اپنی تاک میں پاتا ہے.[2]
10ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا اراده کیا گیا ہے یا ان کے رب کا اراده ان کے ساتھ بھلائی کا ہے.[1]
11اور یہ کہ (بیشک) بعض تو ہم میں نیکو کار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں، ہم مختلف طریقوں سے بٹے ہوئے ہیں.[1]
12اور ہم نے سمجھ لیا[1] کہ ہم اللہ تعالیٰ کو زمین میں ہرگز عاجز نہیں کرسکتے اور نہ ہم بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں.
13ہم تو ہدایت کی بات سنتے ہی اس پر ایمان ﻻئے چکے اور جو بھی اپنے رب پر ایمان ﻻئے گا اسے نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہے نہ ﻇلم وستم کا.[1]
14ہاں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بےانصاف ہیں[1] پس جو فرماں بردار ہوگئے انہوں نے تو راه راست کا قصد کیا.
15اور جو ﻇالم ہیں وه جہنم کا ایندھن بن گئے.[1]
16اور (اے نبی یہ بھی کہہ دو) کہ اگر لوگ راه راست پر سیدھے رہتے تو یقیناً ہم انہیں بہت وافر پانی پلاتے.
17تاکہ ہم اس میں انہیں آزمالیں[1] ، اور جو شخص اپنے پروردگار کے ذکر سے منھ پھیر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب میں مبتلا کردے گا.[2]
18اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو.[1]
19اور جب اللہ کا بنده اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وه بھیڑ کی بھیڑ بن کر اس پر پل پڑیں.[1]
20آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا.[1]
21کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نقصان نفع کا اختیار نہیں.[1]
22کہہ دیجئے کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے بچا نہیں سکتا[1] اور میں ہرگز اس کے سوا کوئی جائے پناه بھی پا نہیں سکتا.
23البتہ (میرا کام) اللہ کی بات اور اس کے پیغامات (لوگوں کو) پہنچا دینا ہے[1] ، (اب) جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے.
24(ان کی آنکھ نہ کھلے گی) یہاں تک کہ اسے دیکھ لیں جس کا ان کو وعده دیا جاتا ہے[1] پس عنقریب جان لیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے.[2]
25کہہ دیجئے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس کا وعده تم سے کیا جاتا ہے وه قریب ہے یا میرا رب اس کے لیے دور کی مدت مقرر کرے گا.[1]
26وه غیب کا جاننے واﻻ ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا.
27سوائے اس پیغمبر کے جسے وه پسند کرلے[1] لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کردیتا ہے.[2]
28تاکہ ان کے اپنے رب کے پیغام پہنچا دینے کا علم ہو جائے[1] اللہ تعالیٰ نے ان کے آس پاس (کی تمام چیزوں) کا احاطہ کر رکھا ہے[2] اور ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھا ہے.[3]