القلم
The Pen • 52 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1ن[1] ، قسم ہے قلم کی اور[2] اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں.[3]
2تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے.[1]
3اور بے شک تیرے لیے بے انتہا اجر ہے.[1]
4اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے.[1]
5پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے.[1]
6کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے.
7بیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے.
8پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان.[1]
9وه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں.[1]
10اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ.
11بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور.
12بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار.
13گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو.[1]
14اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے.[1]
15جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں.
16ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے.[1]
17بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا[1] جس طرح ہم نے باغ والوں کو[2] آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے.[3]
18اور انشاءاللہ نہ کہا.
19پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے.[1]
20پس وه باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی.[1]
21اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں.
22کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو.
23پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے.[1]
24کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے.[1]
25اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئے.[1]
26جب انہوں نے باغ دیکھا[1] تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ[2] بھول گئے.
27نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی.[1]
28ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟[1]
29تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ﻇالم تھے.[1]
30پھر وه ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں ملامت کرنے لگے.
31کہنے لگے ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھے.
32کیا عجب ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے دے ہم تو اب[1] اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیں.
33یوں ہی آفت آتی ہے[1] اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔ کاش انہیں سمجھ ہوتی.[2]
34پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں.
35کیا ہم مسلمانوں کو مثل گناه گاروں کے کردیں گے.[1]
36تمہیں کیا ہوگیا، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟
37کیا تمہارے پاس کوئی کتاب[1] ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟
38کہ اس میں تمہاری من مانی باتیں ہوں؟
39یا تم نے ہم سے کچھ قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وه سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لو.[1]
40ان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہدار (اور دعویدار) ہے؟[1]
41کیا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو چاہئے کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر یہ سچے ہیں.[1]
42جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو (سجده) نہ کر سکیں گے.[1]
43نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھارہی ہوگی[1] ، حاﻻنکہ یہ سجدے کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھے.[2]
44پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے[1] ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا.[2]
45اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے.[1]
46کیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیں.[1]
47یا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وه لکھتے ہوں.[1]
48پس تو اپنے رب کے حکم کا صبر سے (انتظار کر[1] ) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جا جب[2] کہ اس نے غم کی حالت میں دعا کی.[3]
49اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا.[1]
50اسے اس کے رب نے پھر نوازا[1] اور اسے نیک کاروں میں کر دیا.[2]
51اور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں[1] ، جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہے.[2]
52در حقیقت یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہی ہے.[1]