غافر
The Forgiver • 85 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1حٰم.
2اس کتاب کا نازل فرمانا[1] اس اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور دانا ہے.[2]
3گناه کا بخشنے واﻻ اور توبہ کا قبول فرمانے واﻻ[1] سخت عذاب واﻻ[2] انعام و قدرت واﻻ[3]، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے.
4اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں[1] جو کافر ہیں پس ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے.[2]
5قوم نوح نے اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کو گرفتار کر لینے کا اراده کیا[1] اور باطل کے ذریعہ کج بحثیاں کیں، تاکہ ان سے حق کو بگاڑ دیں[2] پس میں نے ان کو پکڑ لیا، سو میری طرف سے کیسی سزا ہوئی.[3]
6اور اسی طرح آپ کے رب کا حکم کافروں پر ﺛابت ہو گیا کہ وه دوزخی ہیں.[1]
7عرش کے اٹھانے والے اور اسکے آس پاس کے (فرشتے) اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استفغار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس تو انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راه کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے.[1]
8اے ہمارے رب! تو انہیں ہمیشگی والی جنتوں میں لے جا جن کا تو نے ان سے وعده کیا ہے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اوﻻد میں سے (بھی) ان (سب) کو جو نیک عمل ہیں[1] ۔ یقیناً تو تو غالب و باحکمت ہے.
9انہیں برائیوں سے بھی محفوظ رکھ[1] ، حق تو یہ ہے کہ اس دن تونے جسے برائیوں سے بچا لیا اس پر تو نے رحمت کر دی اور بہت بڑی کامیابی تو یہی ہے.[2]
10بےشک جن لوگوں نے کفر کیا انہیں یہ آواز دی جائے گی کہ یقیناً اللہ کا تم پر غصہ ہونااس سے بہت زیاده ہے جو تم غصہ ہوتے تھے اپنے جی سے، جب تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر کفر کرنے لگتے تھے.[1]
11وه کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دوبار مارا اور دو بار ہی جلایا[1] ، اب ہم اپنے گناہوں کے اقراری ہیں[2]، تو کیا اب کوئی راه نکلنے کی بھی ہے؟[3]
12یہ (عذاب) تمہیں اس لیے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کر جاتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے[1] تھے پس اب فیصلہ اللہ بلند و بزرگ ہی کا ہے.[2]
13وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے اور تمہارے لیےآسمان سے روزی اتارتا ہے[1] ، نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو (اللہ کی طرف) رجوع کرتے ہیں.[2]
14تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لیے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں.[1]
15بلند درجوں واﻻ عرش کامالک وه اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے[1] ، تاکہ وه ملاقات کے دن سے ڈرائے.
16جس دن سب لوگ ﻇاہر ہو جائیں گے[1] ، ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیده نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہی ہے[2]؟ فقط اللہ واحد و قہار کی.[3]
17آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج (کسی قسم کا) ﻇلم نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے واﻻ ہے.[1]
18اور انہیں بہت ہی قریب آنے والی[1] (قیامت سے) آگاه کر دیجئے، جب کہ دل حلق تک پہنچ جائیں گے اور سب خاموش ہوں گے[2]، ﻇالموں کا نہ کوئی دلی دوست ہوگا نہ سفارشی، کہ جس کی بات مانی جائے گی.
19وه آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیده باتوں کو (خوب) جانتا ہے.[1]
20اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا اس کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وه کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے[1] ، بیشک اللہ تعالیٰ خوب سنتا خوب دیکھتا ہے.
21کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا نتیجہ کیسا کچھ ہوا؟ وه باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے ان سے بہت زیاده تھے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیتا.[1]
22یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر معجزے لے لے کرآتے تھے تو وه انکار کر دیتے تھے[1] ، پس اللہ انہیں پکڑ لیتا تھا۔ یقیناً وه طاقتور اور سخت عذاب واﻻ ہے.
23اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا.[1]
24فرعون ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا (یہ تو) جادوگر اور جھوٹا ہے.[1]
25پس جب ان کے پاس (موسیٰ علیہ السلام) ہماری طرف سے (دین) حق کولے کر آئے توانہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جوایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زنده رکھو[1] اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وه غلطی میں ہی ہے.
26اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو مار ڈالوں اور[1] اسے چاہئے کہ اپنے رب کو پکارے[2]، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی (بہت بڑا) فساد برپا نہ کردے.[3]
27موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں ہر اس تکبر کرنے والے شخص (کی برائی) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا.[1]
28اور ایک مومن شخص نے، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا کہ کیا تم ایک شحض کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وه کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے[1] ، اگر وه جھوٹا ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وه سچا ہو، تو جس (عذاب) کا وه تم سے وعده کر رہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تو تم پر آ پڑے گا[2]، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے اور جھوٹے ہیں.[3]
29اے میری قوم کے لوگو! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ اس زمین پر تم غالب[1] ہو لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آ گیا تو کون ہماری مدد کرے گا[2]؟ فرعون بوﻻ، میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راه ہی بتلا رہا ہوں.[3]
30اس مومن نے کہا اے میری قوم! (کے لوگو) مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر بھی ویسا ہی روز (بد عذاب) نہ آئے جو اور امتوں پر آیا.
31جیسے امت نو ح اور عاد وﺛمود اور ان کے بعد والوں کا (حال ہوا)[1] ، اللہ اپنے بندوں پر کسی طرح کا ﻇلم کرنا نہیں چاہتا.[2]
32اور مجھے تم پر ہانک پکار کے دن کابھی ڈر ہے.[1]
33جس دن تم پیٹھ پھیر کر لوٹو گے[1] ، تمہیں اللہ سے بچانے واﻻ کوئی نہ ہوگا اور جسے اللہ گمراه کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں.[2]
34اور اس سے پہلے تمہارے پاس (حضرت) یوسف دلیلیں لے کر آئے[1] ، پھر بھی تم ان کی ﻻئی ہوئی (دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے[2] یہاں تک کہ جب ان کی وفات[3] ہو گئی تو کہنے لگے ان کے بعد تو اللہ کسی رسول کو بھیجے گا ہی نہیں[4] اسی طرح اللہ گمراه کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے واﻻ شک و شبہ کرنے واﻻ ہو.[5]
35جو بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں[1] ، اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ تو بہت بڑی ناراضگی کی چیز ہے[2]، اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر ایک مغرور سرکش کے دل پر مہر کردیتا ہے.[3]
36فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لیے ایک باﻻخانہ[1] بنا شاید کہ میں آسمان کے جو دروازے ہیں.
37(ان) دروازوں تک پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے معبود کو جھانک لوں[1] اور بیشک میں سمجھتا ہوں وه جھوٹا ہے[2] اور اسی طرح فرعون کی بدکرداریاں اسے بھلی دکھائی گئیں[3] اور راه سے روک دیا گیا[4] اور فرعون کی (ہر) حیلہ سازی تباہی میں ہی رہی.[5]
38اور اس مومن شخص نے کہا کہ اے میری قوم! (کے لوگو) تم (سب) میری پیروی کرو میں نیک راه کی طرف تمہاری رہبری کروں گا.[1]
39اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے[1] ، (یقین مانو کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے.[2]
40جس نے گناه کیا ہے اسے تو برابر برابر کا بدلہ ہی ہے[1] اور جس نے نیکی کی ہے خواه وه مرد ہو یا عورت اور وه ایمان واﻻ ہو تو یہ لوگ[2] جنت میں جائیں گے اور وہاں بےشمار روزی پائیں گے.[3]
41اے میری قوم! یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں[1] اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو.[2]
42تم مجھے یہ دعوت دے رہے ہوکہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ شرک کروں جس کا کوئی علم مجھے نہیں اور میں تمہیں غالب بخشنے والے (معبود) کی طرف دعوت دے رہا ہوں.[1]
43یہ یقینی امر ہے[1] کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وه تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے[2] نہ آخرت میں[3]، اور یہ (بھی یقینی بات ہے) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے[4] اور حد سے گزر جانے والے ہی (یقیناً) اہل دوزخ ہیں.[5]
44پس آگے چل کر تم میری باتوں کو یاد کرو گے[1] میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں[2]، یقیناً اللہ تعالیٰ بندوں کا نگراں ہے.[3]
45پس اسے اللہ تعالیٰ نے تمام بدیوں سے محفوظ رکھ لیا جو انہوں نے سوچ رکھی تھیں[1] اور فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب الٹ پڑا.[2]
46آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام ﻻئے جاتے ہیں[1] اور جس دن قیامت قائم ہوگی (فرمان ہوگا کہ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو.[2]
47اور جب کہ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ تکبر والوں سے (جن کے یہ تابع تھے) کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے تو کیا اب تم ہم سے اس آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو؟
48وه بڑے لوگ جواب دیں گے ہم تو سبھی اس آگ میں ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کر چکا ہے.
49اور (تمام) جہنمی مل کر جہنم کے داروغوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وه کسی دن تو ہمارے عذاب میں کمی کردے.
50وه جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول معجزے لے کر نہیں آئے تھے؟ وه کہیں گے کیوں نہیں، وه کہیں گے کہ پھر تم ہی دعا کرو[1] اور کافروں کی دعا محض بے اﺛر اور بےراه ہے.[2]
51یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانیٴ دنیا میں بھی کریں گے[1] اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے[2] کھڑے ہوں گے.
52جس دن ﻇالموں کو ان کی (عذر) معذرت کچھ نفع نہ دے گی ان کے لیے لعنت ہی ہوگی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا.[1]
53ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ عطا فرمایا [1] اور بنو اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا.[2]
54کہ وه ہدایت و نصیحت تھی عقل مندوں کے لیے.[1]
55پس اے نبی! تو صبر کر اللہ کا وعده بلاشک (وشبہ) سچا ہی ہے تو اپنے گناه کی[1] معافی مانگتا ره اور صبح شام[2] اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتا ره.
56جو لوگ باوجود اپنے پاس کسی سند کے نہ ہونے کے آیات الٰہی میں جھگڑا کرتے ہیں ان کے دلوں میں بجز نری بڑائی کے اور کچھ نہیں وه اس تک پہنچنے والے ہی نہیں[1] ، سو تو اللہ کی پناه مانگتا ره بیشک وه پورا سننے واﻻ اور سب سے زیاده دیکھنے واﻻ ہے.
57آسمان و زمین کی پیدائش یقیناً انسان کی پیدائش سے بہت بڑا کام ہے، لیکن (یہ اور بات ہے کہ) اکثر لوگ بےعلم ہیں.[1]
58اندھا اور بینا برابر نہیں نہ وه لوگ جو ایمان ﻻئے اور بھلے کام کیے بدکاروں کے (برابر ہیں)[1] ، تم (بہت) کم نصیحت حاصل کر رہے ہو.
59قیامت بالیقین اور بےشبہ آنے والی ہے، لیکن (یہ اور بات ہے کہ) بہت سے لوگ ایمان نہیں ﻻتے.
60اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا[1] یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے.[2]
61اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے رات بنادی کہ تم اس میں آرام حاصل کرو[1] اور دن کو دیکھنے واﻻ بنا دیا[2]، بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل وکرم واﻻ ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے.[3]
62یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر کہاں تم پھرے جاتے ہو.[1]
63اسی طرح وه لوگ بھی پھیرے جاتے رہے جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے.
64اللہ ہی ہے[1] جس نے تمہارے لیے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ[2] اور آسمان کو چھت بنا دیا[3] اور تمہاری صورتیں بنائیں[4] اور بہت اچھی بنائیں اور تمہیں عمده عمده چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں[5]، یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے، پس بہت ہی برکتوں واﻻ اللہ ہے سارے جہان کا پرورش کرنے واﻻ.
65وه زنده ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم خالص اس کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو[1] ، تمام خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے.
66آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے ان کی عبادت سے روک دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا پکار رہے ہو[1] اس بنا پر کہ میرے پاس میرے رب کی دلیلیں پہنچ چکی ہیں، مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے رب کا تابع فرمان ہو جاؤں.[2]
67وه وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے[1] سے پھر خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا پھر تمہیں بچہ کی صورت میں نکالتا ہے، پھر (تمہیں بڑھاتا ہے کہ) تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ پھر بوڑھے ہو جاؤ[2]، تم میں سے بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں[3]، (وه تمہیں چھوڑ دیتا ہے) تاکہ تم مدت معین تک پہنچ جاؤ[4] اور تاکہ تم سوچ سمجھ لو.
68وہی ہے جو جلاتا ہے اور مار ڈالتا ہے[1] ، پھر جب وه کسی کام کا کرنا مقرر کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ہو جا پس وه ہو جاتا ہے.[2]
69کیا تو نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں[1] ، وه کہاں پھیر دیے جاتے ہیں.[2]
70جن لوگوں نے کتاب کو جھٹلایا اور اسے بھی جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا انہیں ابھی ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی.
71جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی گھسیٹے جائیں گے.[1]
72کھولتے ہوئے پانی میں اور پھر جہنم کی آگ میں جلائے جائیں گے.[1]
73پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ جنہیں تم شریک کرتے تھے وه کہاں ہیں.
74جو اللہ کے سوا تھے[1] وه کہیں گے کہ وه تو ہم سے بہک گئے[2] بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی کو بھی پکارتے ہی نہ تھے[3]۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو اسی طرح گمراه کرتا ہے.[4]
75یہ بدلہ ہے اس چیز کا جو تم زمین میں ناحق پھولے نہ سماتے تھے۔ اور (بےجا) اتراتے پھرتے تھے.[1]
76(اب آؤ) جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے (اس کے) دروازوں میں داخل ہو جاؤ، کیا ہی بری جگہ ہے تکبر کرنے والے کی.[1]
77پس آپ صبر کریں اللہ کا وعده قطعاً سچا ہے[1] ، انہیں ہم نے جو وعدے دے رکھے ہیں ان میں سے کچھ ہم آپ کو دکھائیں[2] یا (اس سے پہلے) ہم آپ کو وفات دے دیں، ان کا لوٹایا جانا تو ہماری ہی طرف ہے.[3]
78یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کر چکے ہیں اور ان میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی[1] نہیں کیے اور کسی رسول کا یہ (مقدور) نہ تھا کہ کوئی معجزه اللہ کی اجازت کے بغیر ﻻ سکے[2] پھر جس وقت اللہ کا حکم آئےگا[3] حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا[4] اور اس جگہ اہل باطل خسارے میں ره جائیں گے.
79اللہ وه ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کیے[1] جن میں سے بعض پر تم سوار ہوتے ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو.[2]
80اور بھی تمہارے لیے ان میں بہت سے نفع ہیں[1] اور تاکہ اپنے سینوں میں چھپی ہوئی حاجتوں کو انہی پر سواری کر کے تم حاصل کر لو اور ان چوپایوں پر اور کشتیوں پر سوار کیے جاتے ہو.[2]
81اللہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا جارہا ہے[1] ، پس تم اللہ کی کن کن نشانیوں کے منکر بنتے رہو گے.[2]
82کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلوں کا انجام نہیں دیکھا[1] ؟ جو ان سے تعداد میں زیاده تھے قوت میں سخت اور زمین میں بہت ساری یادگاریں چھوڑی تھیں[2]، ان کے کیے کاموں نے انہیں کچھ بھی فائده نہیں پہنچایا.[3]
83پس جب بھی ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر اترانے لگے[1] ، بالﺂخر جس چیز کو مذاق میں اڑا رہے تھے وه ان پر الٹ پڑی.
84ہمارا عذاب دیکھتے ہی کہنے لگے کہ اللہ واحد پر ہم ایمان ﻻئے اور جن جن کو ہم اس کا شریک بنا رہے تھے ہم نے ان سب سے انکار کیا.
85لیکن ہمارے عذاب کو دیکھ لینے کے بعد ان کے ایمان نے انہیں نفع نہ دیا۔ اللہ نے اپنا معمول یہی مقرر کر رکھا ہے جو اس کے بندوں میں برابر چلا آ رہا ہے[1] ۔ اور اس جگہ کافر خراب وخستہ ہوئے.[2]