طه
Ta-Ha • 135 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1طٰہٰ.
2ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑ جائے.[1]
3بلکہ اس کی نصیحت کے لئے جو اللہ سے ڈرتا ہے.
4اس کا اتارنا اس کی طرف سے ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے.
5جو رحمٰن ہے، عرش پر قائم ہے.[1]
6جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور (کرہٴ خاک) کے نیچے کی ہر ایک چیز پر ہے.[1]
7اگر تو اونچی بات کہے تو وه تو ہر ایک پوشیده، بلکہ پوشیده سے پوشیده تر چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے.[1]
8وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بہترین نام اسی کے ہیں.[1]
9تجھے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم ہے؟
10جبکہ اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ مجھے آگ دکھائی دی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارا تمہارے پاس ﻻؤں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاؤں.[1]
11جب وه وہاں پہنچے تو آواز دی گئی[1] اے موسیٰ!
12یقیناً میں ہی تیرا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دے[1] ، کیونکہ تو پاک میدان طویٰ میں ہے.[2]
13اور میں نے تجھے منتخب کر لیا[1] اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سن.
14بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے ﻻئق اور کوئی نہیں پس تو میری ہی عبادت کر[1] ، اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ.[2]
15قیامت یقیناً آنے والی ہے جسے میں پوشیده رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وه بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو.
16پس اب اس کے یقین سے تجھے کوئی ایسا شخص روک نہ دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو، ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا.[1]
17اے موسیٰ! تیرے اس دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟
18جواب دیا کہ یہ میری ﻻٹھی ہے، جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں مجھے بہت سے فائدے ہیں.
19فرمایا اے موسیٰ! اسے ہاتھ سے نیچے ڈال دے.
20ڈالتے ہی وه سانﭗ بن کر دوڑنے لگی
21فرمایا بے خوف ہو کر اسے پکڑ لے، ہم اسے اسی پہلی سی صورت میں دوباره ﻻ دیں گے.[1]
22اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال لے تو وه سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا، لیکن بغیر کسی عیب (اور روگ) کے[1] یہ دوسرا معجزه ہے.
23یہ اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانا چاہتے ہیں.
24اب تو فرعون کی طرف جا اس نے بڑی سرکشی مچا رکھی ہے.[1]
25موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کھول دے.
26اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے.
27اور میری زبان کی گره بھی کھول دے.
28تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں.
29اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے.
30یعنی میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو.
31تو اس سے میری کمر کس دے.
32اور اسے میرا شریک کار کر دے.[1]
33تاکہ ہم دونوں بکثرت تیری تسبیح بیان کریں.
34اور بکثرت تیری یاد کریں.[1]
35بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے واﻻ ہے.[1]
36جناب باری تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ تیرے تمام سواﻻت پورے کر دیئے گئے.[1]
37ہم نے تو تجھ پرایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے.[1]
38جبکہ ہم نے تیری ماں کو وه الہام کیا جس کا ذکر اب کیا جا رہا ہے.
39کہ تو اسے صندوق میں بند کرکے دریا میں چھوڑ دے، پس دریا اسے کنارے ﻻ ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا[1] ، اور میں نے اپنی طرف کی خاص محبت ومقبولیت تجھ پر ڈال دی[2]۔ تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے[3] کی جائے.
40(یاد کر) جبکہ تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں اسے بتا دوں جو اس کی نگہبانی کرے[1] ، اس تدبیر سے ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وه غمگین نہ ہو۔ اور تو نے ایک شخص کو مار ڈاﻻ تھا[2] اس پر بھی ہم نے تجھے غم سے بچا لیا، غرض ہم نے تجھے اچھی طرح آزما لیا[3]۔ پھر تو کئی سال تک مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا[4]، پھر تقدیر الٰہی کے مطابق اے[5] موسیٰ! تو آیا.
41اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے پسند فرما لیا.
42اب تو اپنے بھائی سمیت میری نشانیاں ہمراه لئے ہوئے جا، اور خبردار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا.[1]
43تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی سرکشی کی ہے.
44اسے نرمی[1] سے سمجھاؤ کہ شاید وه سمجھ لے یا ڈر جائے.
45دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں خوف ہے کہ کہیں فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرے یا اپنی سرکشی میں بڑھ نہ جائے.
46جواب ملا کہ تم مطلقاً خوف نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا دیکھتا رہوں گا.[1]
47تم اس کے پاس جا کر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، ان کی سزائیں موقوف کر۔ ہم تو تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اسی کے لئے ہے جو ہدایت کا پابند[1] ہو جائے.
48ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو جھٹلائے اور روگردانی کرے اس کے لئے عذاب ہے.
49فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟
50جواب دیا کہ ہمارا رب وه ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راه سجھا دی.[1]
51اس نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ اگلے زمانے والوں کا حال کیا ہونا ہے.[1]
52جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے، نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے.[1]
53اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے ہیں اور آسمان سے پانی بھی وہی برساتا ہے، پھر اس برسات کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں.
54تم خود کھاؤ اور اپنے چوپایوں کو بھی چراؤ[1] ۔ کچھ شک نہیں کہ اس میں عقلمندوں کے لئے[2] بہت سی نشانیاں ہیں.
55اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوباره تم سب[1] کو نکال کھڑا کریں گے.
56ہم نے اسےاپنی سب نشانیاں دکھا دیں لیکن پھر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کر دیا.
57کہنے لگا اے موسیٰ! کیا تو اسی لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دے.[1]
58اچھا ہم بھی تیرے مقابلے میں اسی جیسا جادو ضرور ﻻئیں گے پس تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت مقرر کر لے[1] ، کہ نہ ہم اس کا خلاف کریں اور نہ تو، صاف میدان میں مقابلہ ہو.[2]
59موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ زینت اور جشن کے دن[1] کا وعده ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں.
60پس فرعون لوٹ گیا اور اس نے اپنے ہتھکنڈے جمع کیے پھر آگیا.[1]
61موسی (علیہ السلام) نے ان سے کہا تمہاری شامت آچکی، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترا نہ باندھو کہ وه تمہیں عذابوں سے ملیا میٹ کر دے، یاد رکھو وه کبھی کامیاب نہ ہوگا جس نے جھوٹی بات گھڑی.[1]
62پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہوگئے اور چھﭗ کر چپکے چپکے مشوره کرنے لگے.[1]
63کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں اور ان کا پختہ اراده ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کر دیں اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کر دیں.[1]
64تو تم بھی اپنا کوئی داؤ اٹھا نہ رکھو، پھر صف بندی کرکے آؤ۔ جو غالب آگیا وہی بازی لے گیا.
65کہنے لگے کہ اے موسیٰ! یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں.
66جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو[1] ۔ اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں.[2]
67پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا.
68ہم نے فرمایا کچھ خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا.[1]
69اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈالدے کہ ان کی تمام کاریگری کووه نگل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا.
70اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے کہ ہم تو ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے رب پر ایمان ﻻئے.
71فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پرایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، (سن لو) میں تمہارے پاؤں الٹے سیدھے[1] کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوں میں سولی پر لٹکوا دوں گا، اور تمہیں پوری طرح معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیاده سخت اور دیرپا ہے.
72انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنے آچکیں اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے[1] اب تو تو جو کچھ کرنے وﻻ ہے کر گزر، تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وه اسی دنیوی[2] زندگی میں ہی ہے.
73ہم (اس امید سے) اپنے پروردگار پرایمان ﻻئے کہ وه ہماری خطائیں معاف فرما دے اور (خاص کر) جادوگری (کا گناه،) جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا ہے[1] ، اللہ ہی بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے واﻻ ہے.[2]
74بات یہی ہے کہ جو بھی گنہگار بن کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوگا اس کے لئے دوزخ ہے، جہاں نہ موت ہوگی اور نہ زندگی.[1]
75اور جو بھی اس کے پاس ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس نے اعمال بھی نیک کیے ہوں گے اس کے لئے بلند وباﻻ درجے ہیں.
76ہمیشگی والی جنتیں جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہی انعام ہے ہر اس شخص کا جو پاک ہوا.[1]
77ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل[1] ، اور ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنا لے[2]، پھر نہ تجھے کسی کے آپکڑنے کا خطره ہوگا نہ ڈر.[3]
78فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا تعاقب کیا پھر تو دریا ان سب پر چھا گیا جیسا کچھ چھا جانے واﻻ تھا.[1]
79فرعون نے اپنی قوم کو گمراہی میں ڈال دیا اور سیدھا راستہ نہ دکھایا.[1]
80اے بنی اسرائیل! دیکھو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوه طور کی دائیں طرف کا وعده[1] کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارا.[2]
81تم ہماری دی ہوئی پاکیزه روزی کھاؤ، اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو[1] ، ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا، اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وه یقیناً تباه ہوا.[2]
82ہاں بیشک میں انہیں بخش دینے واﻻ ہوں جو توبہ کریں ایمان ﻻئیں نیک عمل کریں اور راه راست پر بھی رہیں.[1]
83اے موسیٰ! تجھے اپنی قوم سے (غافل کرکے) کون سی چیز جلدی لے آئی؟
84کہا کہ وه لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے ہیں، اور میں نے اے رب! تیری طرف جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو جائے.[1]
85فرمایا! ہم نے تیری قوم کو تیرے پیچھے آزمائش میں ڈال دیا اور انہیں سامری نے بہکا دیا ہے.[1]
86پس موسیٰ (علیہ السلام) سخت غضبناک ہو کر رنج کے ساتھ واپس لوٹے، اور کہنے لگے کہ اے میری قوم والو! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے نیک وعده نہیں کیا [1] تھا؟ کیا اس کی مدت تمہیں لمبی معلوم ہوئی[2]؟ بلکہ تمہارا اراده ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کا خلاف کیا.[3]
87انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنےاختیار سے آپ کے ساتھ وعدے کا خلاف نہیں کیا[1] ۔ بلکہ ہم پر زیورات قوم کے جو بوجھ ﻻد دیے گئے تھے انہیں ہم نے ڈال دیا، اور اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیئے.
88پھر اس نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑا نکال کھڑا کیا یعنی بچھڑے کا بت، جس کی گائے کی سی آواز بھی تھی پھر کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے[1] اور موسیٰ کا بھی، لیکن موسیٰ بھول گیا ہے.
89کیا یہ گمراه لوگ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ وه تو ان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ ان کے کسی برے بھلے کا اختیار رکھتا ہے.[1]
90اور ہارون (علیہ السلام) نےاس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا اے میری قوم والو! اس بچھڑے سے تو صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے، تمہارا حقیقی پروردگار تو اللہ رحمنٰ ہی ہے، پس تم سب میری تابعداری کرو۔ اور میری بات مانتے چلے جاؤ.[1]
91انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے.[1]
92موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے اے ہارون! انہیں گمراه ہوتا ہوا دیکھتے ہوئے تجھے کس چیز نے روکا تھا.
93کہ تو میرے پیچھے نہ آیا۔ کیا تو بھی میرے فرمان کا نافرمان بن بیٹھا.[1]
94ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میرے ماں جائے بھائی! میری داڑھی نہ پکڑ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہ خیال دامن گیر ہوا کہ کہیں آپ یہ (نہ) فرمائیں[1] کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا.[2]
95موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا سامری تیرا کیا معاملہ ہے.
96اس نے جواب دیا کہ مجھے وه چیز دکھائی دی جو انہیں دکھائی نہیں دی، تو میں نے فرستادہٴ الٰہی کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی اسے اس میں ڈال دیا[1] اسی طرح میرے دل نے یہ بات میرے لئے بھلی بنا دی.
97کہا اچھا جا دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہی ہے کہ تو کہتا رہے کہ مجھے نہ چھونا[1] ، اور ایک اور بھی وعده تیرے ساتھ ہے جو تجھ سے ہر گز نہ ٹلے گا[2]، اور اب تو اپنے اس معبود کو بھی دیکھ لینا جس کا اعتکاف کیے ہوئے تھا کہ ہم اسے جلا کر دریا میں ریزه ریزه اڑا دیں گے.[3]
98اصل بات یہی ہے کہ تم سب کا معبود برحق صرف اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی پرستش کے قابل نہیں۔ اس کا علم تمام چیزوں پر حاوی ہے.
99اسی طرح ہم تیرے[1] سامنے پہلے کی گزری ہوئی وارداتیں بیان فرما رہے ہیں اور یقیناً ہم تجھے اپنے پاس سے نصیحت عطا فرما چکے ہیں.[2]
100اس سے جو منھ پھیر لے گا[1] وه یقیناً قیامت کے دن اپنا بھاری بوجھ ﻻدے ہوئے ہوگا.[2]
101جس میں ہمیشہ ہی رہے گا[1] ، اور ان کے لئے قیامت کے دن (بڑا) برا بوجھ ہے.
102جس دن صور[1] پھونکا جائے گا اور گناه گاروں کو ہم اس دن (دہشت کی وجہ سے) نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر ﻻئیں گے.
103وه آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے[1] ہوں گے کہ ہم تو (دنیا میں) صرف دس دن ہی رہے.
104جوکچھ وه کہہ رہے ہیں اس کی حقیقت سے ہم باخبر ہیں ان میں سب سے زیاده اچھی راه[1] واﻻ کہہ رہا ہو گا کہ تم تو صرف ایک ہی دن رہے.
105وه آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، تو آپ کہہ دیں کہ انہیں میرا رب ریزه ریزه کر کے اڑا دے گا.
106اور زمین کو بالکل ہموار صاف میدان کر کے چھوڑے گا.
107جس میں تو نہ کہیں موڑ دیکھے گا نہ اونچ نیچ.
108جس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں[1] گے جس میں کوئی کجی نہ ہوگی[2] اور اللہ رحمنٰ کے سامنے تمام آوازیں پست ہو جائیں گی سوائے کھسر پھسر کے تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا.[3]
109اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمنٰ حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے.[1]
110جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا.[1]
111تمام چہرے اس زنده اور قائم دائم مدبر، اللہ کے سامنے کمال عاجزی سے جھکے ہوئے ہونگے، یقیناً وه برباد ہوا جس نے ﻇلم ﻻد لیا.[1]
112اور جو نیک اعمال کرے اور ایمان واﻻ بھی ہو تو نہ اسے بے انصافی کا کھٹکا ہوگا نہ حق تلفی کا.[1]
113اسی طرح ہم نے تجھ پر عربی قرآن نازل فرمایا ہے اور طرح طرح سے اس میں ڈر کا بیان سنایا ہے تاکہ لوگ پرہیز گار بن[1] جائیں یا ان کے دل میں سوچ سمجھ تو پیدا کرے.[2]
114پس اللہ عالی شان واﻻ سچا اور حقیقی بادشاه[1] ہے۔ تو قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر اس سے پہلے کہ تیری طرف جو وحی کی جاتی ہے وه پوری کی جائے[2]، ہاں یہ دعا کر کہ پروردگار! میرا علم بڑھا.[3]
115ہم نے آدم کو پہلے ہی تاکیدی حکم دیا تھا لیکن وه بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی عزم نہیں پایا.[1]
116اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجده کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا، اس نے صاف انکار کر دیا.
117تو ہم نے کہا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے (خیال رکھنا) ایسا نہ ہو کہ وه تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے.[1]
118یہاں تو تجھے یہ آرام ہے کہ نہ تو بھوکا ہوتا ہے نہ ننگا.
119اور نہ تو یہاں پیاسا ہوتا ہے نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتا ہے.
120لیکن شیطان نے اسے وسوسہ ڈاﻻ، کہنے لگا کہ میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور بادشاہت بتلاؤں کہ جو کبھی پرانی نہ ہو.
121چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھا لیا پس ان کے ستر کھل گئے اور بہشت کے پتے اپنے اوپر ٹانکنے لگے۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی، پس بہک گیا.[1]
122پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی رہنمائی کی.[1]
123فرمایا، تم دونوں یہاں سےاتر جاؤ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو، اب تمہارے پاس کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وه بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا.
124اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی[1] ، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے.[2]
125وه کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حاﻻنکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا.
126(جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہئے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے.
127ہم ایسا ہی بدلہ ہر اس شخص کو دیا کرتے ہیں جو حد سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ ﻻئے، اور بیشک آخرت کا عذاب نہایت ہی سخت اور باقی رہنے واﻻ ہے.
128کیا ان کی رہبری اس بات نے بھی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی بستیاں ہلاک کر دی ہیں جن کے رہنے سہنے کی جگہ یہ چل پھر رہے ہیں۔ یقیناً اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں.
129اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شده اور وقت معین کرده نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آچمٹتا.[1]
130پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا ره[1] ، بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے.[2]
131اور اپنی نگاہیں ہرگز ان چیزوں کی طرف نہ دوڑانا جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا کی دے رکھی ہیں تاکہ انہیں اس میں آزما لیں[1] تیرے رب کا دیا ہوا ہی (بہت) بہتر اور باقی رہنے واﻻ ہے.[2]
132اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره[1] ، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول باﻻ پرہیزگاری ہی کا ہے.
133انہوں نے کہا کہ یہ نبی ہمارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں ﻻیا[1] ؟ کیا ان کے پاس اگلی کتابوں کی واضح دلیل نہیں پہنچی؟[2]
134اور اگر ہم اس سے[1] پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو یقیناً یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل ورسوا ہوتے.
135کہہ دیجئے! ہر ایک انجام کا منتظر[1] ہے پس تم بھی انتظار میں رہو۔ عنقريب قطعاً جان لو گے کہ راه راست والے کون ہیں اور کون راه یافتہ ہیں.[2]