الزمر
The Groups • 75 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب باحکمت کی طرف سے ہے.
2یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ[1] نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے.[2]
3خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے[1] اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں[2]، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا[3]۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا.[4]
4اگر اللہ تعالیٰ کااراده اوﻻد ہی کا ہوتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا۔ (لیکن) وه تو پاک ہے، وه[1] وہی اللہ تعالیٰ ہے یگانہ اور قوت واﻻ.
5نہایت اچھی تدبیر سے اس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا وه رات کو دن اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے[1] اور اس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ہر ایک مقرره مدت تک چل رہا ہے یقین مانو کہ وہی زبردست اور گناہوں کا بخشنے واﻻ ہے.
6اس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے[1] ، پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا[2] اور تمہارے لئے چوپایوں میں سے (آٹھ نر وماده) اتارے[3] وه تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر بناتا[4] ہے تین تین اندھیروں[5] میں، یہی اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے اسی کے لئے بادشاہت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بہک رہے ہو.[6]
7اگر تم ناشکری کرو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم (سب سے) بے نیاز ہے[1] ، اور وه اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وه اسے تمہارے لئے پسند کرے گا[2]۔ اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کا لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے۔ تمہیں وه بتلا دے گا جو تم کرتے تھے۔ یقیناً وه دلوں تک کی باتوں کا واقف ہے.
8اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وه خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرمادیتا ہے تو وه اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا اسے (بالکل) بھول جاتا ہے[1] اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے (اوروں کو بھی) اس کی راه سے بہکائے، آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائده کچھ دن اور اٹھالو، (آخر) تو دوزخیوں میں ہونے واﻻ ہے.
9بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو[1] ، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں[2]؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ (اپنے رب کی طرف سے).[3]
10کہہ دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو[1] ، جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک بدلہ ہے[2] اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشاده ہے[3] صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بےشمار اجر دیا جاتا ہے.[4]
11آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے عبادت کو خالص کر لوں.
12اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا فرماں بردار بن جاؤں.[1]
13کہہ دیجئے! کہ مجھے تو اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے بڑے دن کے عذاب کا خوف لگتا ہے.
14کہہ دیجئے! کہ میں تو خالص کر کے صرف اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں.
15تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو کہہ دیجئے! کہ حقیقی زیاں کار وه ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو قیامت کے دن نقصان میں ڈال دیں گے، یاد رکھو کہ کھلم کھلا نقصان یہی ہے.
16انہیں نیچے اوپر سے آگ کے (شعلے مثل) سائبان (کے) ڈھانک رہے ہوں گے[1] ۔ یہی (عذاب) ہے جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے[2]، اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرتے رہو.
17اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے.
18جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو[1] اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں.[2]
19بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ﺛابت ہو چکی ہے[1] ، تو کیا آپ اسے جو دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں؟[2]
20ہاں وه لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے باﻻ خانے ہیں جن کے اوپر بھی بنے بنائے باﻻ خانے ہیں[1] (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ رب کا وعده ہے[2] اور وه وعده خلافی نہیں کرتا.
21کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا[1] ہے، پھر اسی کے ذریعہ سے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا[2] ہے پھر وه خشک ہو جاتی ہیں اور آپ انہیں زرد رنگ دیکھتے ہیں پھر انہیں ریزه ریزه کر دیتا ہے[3]، اس میں عقل مندوں کے لئے بہت زیاده نصیحت ہے.[4]
22کیا وه شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نےاسلام کے لئے کھول دیا ہے پس وه اپنے پروردگار کی طرف سے ایک نور پر ہے[1] اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے (اﺛر نہیں لیتے بلکہ) سخت ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں (مبتلا) ہیں.
23اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے[1] ، جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں[2] آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں[3]، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے ذریعہ جسے چاہے راه راست پر لگا دیتا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راه بھلا دے اس کا ہادی کوئی نہیں.
24بھلا جو شخص قیامت کے دن کے بدترین عذاب کی سپر (ڈھال) اپنے منھ کو بنائے گا۔ (ایسے) ﻇالموں سے کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا (وبال) چکھو.[1]
25ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا، پھر ان پر وہاں سے عذاب آپڑا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا.[1]
26اور اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگانی دنیا میں رسوائی کا مزه چکھایا[1] اور ابھی آخرت کا تو بڑا بھاری عذاب ہے کاش کہ یہ لوگ سمجھ لیں.
27اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دیں ہیں کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کر لیں.[1]
28قرآن ہے عربی میں جس میں کوئی کجی نہیں، ہو سکتا ہے کہ وه پرہیزگاری اختیار کر لیں.[1]
29اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے ایک وه شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں، اور دوسرا وه شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں[1] ، اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے[2]۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ سمجھتے نہیں.[3]
30یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں.
31پھر تم سب کے سب قیامت والے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے.[1]
32اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے[1] ؟ اور سچا دین جب اس کے پاس آئے تو اسے جھوٹا بتائے[2]؟ کیا ایسے کفار کے لیے جہنم ٹھکانا نہیں ہے؟
33اور جو سچے دین کو ﻻئے[1] اور جس نے اس کی[2] تصدیق کی یہی لوگ پارسا ہیں.
34ان کے لیے ان کے رب کے پاس (ہر) وه چیز ہے جو یہ چاہیں[1] ، نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے.[2]
35تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کردے اور جو نیک کام انہوں نے کیے ہیں ان کا اچھا بدلہ عطا فرمائے.
36کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں[1] ؟ یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں اور جسے اللہ گمراه کر دےاس کی رہنمائی کرنے واﻻ کوئی نہیں.[2]
37اور جسے وه ہدایت دے اسے کوئی گمراه کرنے واﻻ نہیں[1] کیا اللہ تعالیٰ غالب اور بدلہ لینے واﻻ نہیں ہے؟[2]
38اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً وه یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ آپ ان سے کہئیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ تعالی مجھے نقصان پہنچانا چاہے توکیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا اراده کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے[1] ، توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں.[2]
39کہہ دیجیئے کہ اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کیے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں[1] ، ابھی ابھی تم جان لوگے.
40کہ کس پر رسوا کرنے واﻻ عذاب آتا ہے[1] اور کس پر دائمی مار اور ہمیشگی کی سزا ہوتی ہے.[2]
41آپ پر ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب لوگوں کے لیے نازل فرمائی ہے، پس جو شخص راه راست پر آجائے اس کے اپنے لیے نفع ہے اور جو گمراه ہوجائے اس کی گمراہی کا (وبال) اسی پر ہے، آپ ان کے ذمہ دار نہیں.[1]
42اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت[1] اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے[2]، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے[3] اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے[4]۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں.[5]
43کیا ان لوگوں نے اللہ تعالی کے سوا (اوروں) کو سفارشی مقرر کر رکھا ہے؟ آپ کہہ دیجیئے! کہ گو وه کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں.[1]
44کہہ دیجئے! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے[1] ۔ تمام آسمانوں اور زمین کا راج اسی کے لیے ہے تم سب اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے.
45جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں[1] جو آخرت کایقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا (اور کا) ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں.[2]
46آپ کہہ دیجئے! کہ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے کھلے کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان امور کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وه الجھ رہے تھے.[1]
47اگر ﻇلم کرنے والوں کے پاس وه سب کچھ ہو جو روئے زمین پر ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو، تو بھی بدترین سزا کے بدلے میں قیامت کے دن یہ سب کچھ دے دیں[1] ، اور ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وه ﻇاہر ہوگا جس کا گمان بھی انہیں نہ تھا.[2]
48جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس کی برائیاں ان پر کھل پڑیں گی[1] اور جس کا وه مذاق کرتے تھے اور وه انہیں آ گھیرے گا.[2]
49انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے[1] ، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں[2]، بلکہ یہ آزمائش ہے[3] لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں.[4]
50ان سے اگلے بھی یہی بات کہہ چکے ہیں پس ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی.[1]
51پھر ان کی تمام برائیاں[1] ان پر آ پڑیں، اوران میں سے بھی جو گناه گار ہیں ان کی کی ہوئی برائیاں بھی اب ان پر آ پڑیں گی، یہ (ہمیں) ہرا دینے والے نہیں.[2]
52کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے روزی کشاده کر دیتا ہے اور تنگ (بھی)، ایمان ﻻنے والوں کے لیے اس میں (بڑی بڑی) نشانیاں ہیں.[1]
53(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے.[1]
54تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آ جائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے.
55اور پیروری کرو اس بہترین چیزکی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو.[1]
56(ایسا نہ ہو کہ) کوئی شخص کہے ہائے افسوس! اس بات پر کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی کی[1] بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں ہی رہا.
57یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت کرتا تو میں بھی پارسا لوگوں میں ہوتا.[1]
58یا عذاب کو دیکھ کر کہے کاش! کہ کسی طرح میرا لوٹ جانا ہوجاتا تو میں بھی نیکو کاروں میں ہوجاتا.
59ہاں (ہاں) بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تونے جھٹلایا اور غرور وتکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں.[1]
60اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاه ہوگئے ہوں گے[1] کیا تکبر کرنے والوں کاٹھکانا جہنم میں نہیں؟[2]
61اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی انہیں اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے ساتھ بچا لے[1] گا، انہیں کوئی دکھ چھو بھی نہ سکے گا اور نہ وه کسی طرح غمگین ہوں گے.[2]
62اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے.[1]
63آسمانوں اور زمین کی کنجیوں کامالک وہی ہے[1] جن جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی خساره پانے والے ہیں.[2]
64آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو.[1]
65یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاںکاروں میں سے ہوجائے گا.[1]
66بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کر[1] اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا.
67اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہئے تھی نہیں کی[1] ، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے[2]، وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں.
68اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے[1] مگر جسے اللہ چاہے[2]، پھر دوباره صور پھونکا جائے گا پس وه ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے.[3]
69اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی[1] ، نامہٴ اعمال حاضر کیے جائیں گے نبیوں اور گواہوں کو ﻻیا جائے گا[2] اور لوگوں کے درمیان حق حق فیصلے کر دیے جائیں گے، اور وه ﻇلم نہ کیے جائیں گے.[3]
70اور جس شخص نے جو کچھ کیا ہے بھرپور دے دیا جائے گا، جو کچھ لوگ کر رہے ہیں وه بخوبی جاننے واﻻ ہے.[1]
71کافروں کے غول کے غول جہنم کی طرف ہنکائے جائیں گے[1] ، جب وه اس کے پاس پہنچ جائیں گے اس کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جائیں گے[2]، اور وہاں کے نگہبان ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے؟ جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں درست[3] ہے لیکن عذاب کا حکم کافروں پر ﺛابت ہو گیا.[4]
72کہا جائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ جہاں ہمیشہ رہیں گے، پس سرکشوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے.
73اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے گروه کے گروه جنت کی طرف روانہ کیے جائیں[1] گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آ جائیں گے[2] اور دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ.
74یہ کہیں گے کہ اللہ کاشکر ہے کہ جس نے ہم سے اپنا وعده پورا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں پس عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے.
75اور تو فرشتوں کو اللہ کے عرش کے اردگرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوئے دیکھے گا[1] اور ان میں انصاف کا فیصلہ کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ساری خوبی اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے.[2]