الطور
The Mount • 49 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1قسم ہے طور کی.[1]
2اور لکھی ہوئی کتاب کی.[1]
3جو جھلی کے کھلے ہوئے ورق میں ہے.[1]
4اورآباد گھر کی.[1]
5اور اونچی چھت کی.[1]
6اور بھڑکائے ہوئے سمندر کی.[1]
7بیشک آپ کے رب کا عذاب ہو کر رہنے واﻻ ہے.
8اسے کوئی روکنے واﻻ نہیں.[1]
9جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا.[1]
10اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے.
11اس دن جھٹلانے والوں کو (پوری) خرابی ہے.
12جو اپنی بیہوده گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں.[1]
13جس دن وه دھکے دے[1] دے کر آتش جہنم کی طرف ﻻئیں جائیں گے.
14یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے.[1]
15(اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے[1] ؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو.[2]
16جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا.
17یقیناً پرہیزگار لوگ جنتوں میں اور نعمتوں میں ہیں.[1]
18جو انہیں ان کے رب نے دے رکھی ہیں اس پر خوش خوش ہیں[1] ، اوران کے پروردگار نے انہیں جہنم کے عذاب سے بھی بچا لیا ہے.
19تم مزے سے کھاتے پیتے رہو ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے.[1]
20برابر بچھے ہوئے شاندار تختے پر تکیے لگائے ہوئے[1] ۔ اور ہم نے ان کے نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی (حوروں) سے کر دیئے ہیں.
21اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور ان کی اوﻻد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اوﻻد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے[1] ، ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے.[2]
22ہم ان کے لیے میوے اورمرغوب گوشت کی ریل پیل کردیں گے.[1]
23(خوش طبعی کے ساتھ) ایک دوسرے سے جام (شراب) کی چھینا جھپٹی کریں گے[1] جس شراب کے سرور میں تو بیہوده گوئی ہوگی نہ گناه.[2]
24اور ان کے اردگرد ان کے نو عمر غلام چل پھر رہے ہوں گے، گویا کہ وه موتی تھے جو ڈھکے رکھے تھے.[1]
25اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے.[1]
26کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں کے درمیان بہت ڈرا کرتے تھے.[1]
27پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہمیں تیز وتند گرم ہواؤں کے عذاب سے بچا لیا.[1]
28ہم اس سے پہلے ہی اس کی عبادت کیا کرتے تھے[1] ، بیشک وه محسن اور مہربان ہے.
29تو آپ سمجھاتے رہیں کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں نہ دیوانہ.[1]
30کیا کافر یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانے کے حوادث (یعنی موت) کا انتظار کر رہے ہیں.[1]
31کہہ دیجئے! تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں.[1]
32کیا ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی ہیں[1] ؟ یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں.[2]
33کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نبی نے (قرآن) خود گھڑ لیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ وه ایمان نہیں ﻻتے.[1]
34اچھا اگر یہ سچے ہیں تو بھلا اس جیسی ایک (ہی) بات یہ (بھی) تو لے آئیں.[1]
35کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں[1] ؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟[2]
36کیا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں.[1]
37یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں[1] ؟ یا (ان خزانوں کے) یہ داروغہ ہیں.[2]
38یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں[1] ؟ (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے واﻻ کوئی روشن دلیل پیش کرے.
39کیا اللہ کی تو سب لڑکیاں ہیں اور تمہارے ہاں لڑکے ہیں؟
40کیا تو ان سے کوئی اجرت طلب کرتا ہے کہ یہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں.[1]
41کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟[1]
42کیا یہ لوگ کوئی فریب کرنا چاہتے ہیں[1] ؟ تو یقین کرلیں کہ فریب خورده کافر ہی ہیں.[2]
43کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے؟ (ہرگز نہیں) اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے.
44اگر یہ لوگ آسمان کے کسی ٹکڑے کو گرتا ہوا دیکھ لیں تب بھی کہہ دیں کہ یہ تہ بہ تہ بادل ہے.[1]
45تو انہیں چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑے جس میں یہ بے ہوش کر دیئے جائیں گے.
46جس دن انہیں ان کا مکر کچھ کام نہ دے گا اور نہ وه مدد کیے جائیں گے.
47بیشک ﻇالموں کے لیے اس کے علاوه اور عذاب بھی ہیں[1] ۔ لیکن ان لوگوں میں سے اکثر بےعلم ہیں.[2]
48تو اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر سے کام لے، بیشک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ صبح کو جب تو اٹھے[1] اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کر.
49اور رات کو بھی اس کی تسبیح پڑھ[1] اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی.[2]