الدخان
The Smoke • 59 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1حٰم.
2قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی.
3یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات[1] میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں.[2]
4اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے.[1]
5ہمارے پاس سے حکم ہوکر[1] ، ہم ہی ہیں رسول بناکر بھیجنے والے.
6آپ کے رب کی مہربانی سے[1] ۔ وه ہی ہے سننے واﻻ جاننے واﻻ.
7جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو.
8کوئی معبود نہیں اس کے سوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا.[1]
9بلکہ وه شک میں پڑے کھیل رہے ہیں.[1]
10آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ﻇاہر دھواں ﻻئے گا.[1]
11جو لوگوں کو گھیر لے گا، یہ دردناک عذاب ہے.
12کہیں گے کہ اے ہمارے رب! یہ آفت ہم سے دور کر ہم ایمان قبول کرتے ہیں.[1]
13ان کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ کھول کھول کر بیان کرنے والے پیغمبران کے پاس آچکے.
14پھر بھی انہوں نے ان سے منھ پھیرا اور کہہ دیا کہ سکھایا پڑھایا ہوا باؤﻻ ہے.
15ہم عذاب کو تھوڑا دور کردیں گے تو تم پھر اپنی اسی حالت پر آجاؤ گے.
16جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے[1] ، بالیقین ہم بدلہ لینے والے ہیں.
17یقیناً ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو (بھی) آزما چکے ہیں[1] جن کے پاس (اللہ) کا باعزت رسول آیا.
18کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو میرے حوالے کر[1] دو، یقین مانو کہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں.[2]
19اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی نہ کرو[1] ، میں تمہارے پاس کھلی دلیل ﻻنے واﻻ ہوں.[2]
20اور میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کردو.[1]
21اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں ﻻتے تو مجھ سے الگ ہی رہو.[1]
22پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ سب گنہگار لوگ ہیں.[1]
23(ہم نے کہہ دیا) کہ راتوں رات تو میرے بندوں کو لے کر نکل، یقیناً تمہارا[1] پیچھا کیا جائے گا.
24تو دریا کو ساکن چھوڑ کر چلا جا[1] ، بلاشبہ یہ لشکر غرق کردیا جائے گا.
25وه بہت سے باغات[1] اور چشمے چھوڑ گئے.
26اور کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے.
27اور وه آرام کی چیزیں جن میں عیش کررہے تھے.
28اسی طرح ہوگیا[1] اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنادیا.[2]
29سو ان پر نہ تو آسمان وزمین[1] روئے اور نہ انہیں مہلت ملی.
30اور بےشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو (سخت) رسوا کن سزا سے نجات دی.
31(جو) فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی۔ فیالواقع وه سرکش اور حد سے گزر جانے والوں میں سے تھا.
32اور ہم نے دانستہ طور پر بنی اسرائیل کو دنیا جہان والوں پر فوقیت دی.[1]
33اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی.[1]
34یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں.[1]
35کہ (آخری چیز) یہی ہماری پہلی بار (دنیا سے) مرجانا ہے اور ہم[1] دوباره اٹھائے نہیں جائیں گے.
36اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ.[1]
37کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم کے لوگ اور جو ان سے بھی پہلے تھے۔ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا یقیناً وه گنہ گار تھے.[1]
38ہم نے زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا.[1]
39بلکہ ہم نے انہیں درست تدبیر کے ساتھ ہی پیدا کیا[1] ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے.[2]
40یقیناً فیصلے کا دن ان سب کا طے شده وقت ہے.[1]
41اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی.[1]
42مگر جس پر اللہ کی مہربانی ہوجائے وه زبردست اور رحم کرنے واﻻ ہے.
43بیشک زقوم (تھوہر) کا درخت.
44گناه گار کا کھانا ہے.
45جو مثل تلچھٹ[1] کے ہے اور پیٹ میں کھولتا رہتا ہے.
46مثل تیز گرم پانی کے.[1]
47اسے پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچاؤ.[1]
48پھر اس کے سر پر سخت گرم پانی کا عذاب بہاؤ.
49(اس سے کہا جائے گا) چکھتا جا تو تو بڑا ذی عزت اور بڑے اکرام واﻻ تھا.[1]
50یہی وه چیز ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے.
51بیشک (اللہ سے) ڈرنے والے امن چین کی جگہ میں ہوں گے.
52باغوں اور چشموں میں.
53باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے.[1]
54یہ اسی طرح ہے[1] اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیں گے.[2]
55دل جمعی کے ساتھ وہاں ہر طرح کے میوؤں کی فرمائشیں کرتے ہوں گے.[1]
56وہاں وه موت چکھنے کے نہیں ہاں پہلی موت[1] (جو وه مر چکے)، انہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی سزا سے بچا دیا.
57یہ صرف تیرے رب کا فضل ہے[1] ، یہی ہے بڑی کامیابی.
58ہم نے اس (قرآن) کو تیری زبان میں آسان کردیا تاکہ وه نصیحت حاصل کریں.
59اب تو منتظر ره یہ بھی منتظر ہیں.[1]