الشعراء
The Poets • 227 ayahs • Meccan
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
1طٰسم.
2یہ آیتیں روشن کتاب کی ہیں۔
3ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے.[1]
4اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں.[1]
5اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے.
6ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں.[1]
7کیا انہوں نے زمین پر نظریں نہیں ڈالیں؟ کہ ہم نے اس میں ہر طرح کے نفیس جوڑے کس قدر اگائے ہیں؟[1]
8بے شک اس میں یقیناً نشانی ہے[1] اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں.[2]
9اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے.[1]
10اور جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی کہ تو ﻇالم قوم کے پاس جا.[1]
11قوم فرعون کے پاس، کیا وه پرہیزگاری نہ کریں گے.
12موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وه مجھے جھٹلا (نہ) دیں.
13اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے[1] میری زبان چل نہیں رہی[2] پس تو ہارون کی طرف بھی وحی بھیج.[3]
14اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں.[1]
15جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ[1] ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں.[2]
16تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں.
17کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے.[1]
18فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟[1] اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟[2]
19پھر تو اپنا وه کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں ہے.[1]
20(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں نے اس کام کو اس وقت کیا تھا جبکہ میں راه بھولے ہوئے لوگوں میں سے تھا.[1]
21پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا، پھر مجھے میرے رب نے حکم و علم عطا فرمایا اور مجھے اپنے پیغمبروں میں سے کر دیا.[1]
22مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے.[1]
23فرعون نے کہا رب العالمین کیا (چیز) ہے؟[1]
24(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو.
25فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کہ کیا تم سن نہیں رہے؟[1]
26(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے.
27فرعون نے کہا (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے.
28حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب[1] ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو.
29فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا.[1]
30موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟[1]
31فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر.
32آپ نے (اسی وقت) اپنی ﻻٹھی ڈال دی جو اچانک کھلم کھلا (زبردست) اﮊدہا بن گئی.[1]
33اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وه بھی اسی وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا.[1]
34فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے.[1]
35یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے، بتاؤ اب تم کیا حکم دیتے ہو.[1]
36ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے.
37جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں.[1]
38پھر ایک مقرر دن کے وعدے پر تمام جادوگر جمع کیے گئے.[1]
39اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہوجاؤ گے؟[1]
40تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم ان ہی کی پیروی کریں.
41جادوگر آکر فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟
42فرعون نے کہا ہاں! (بڑی خوشی سے) بلکہ ایسی صورت میں تم میرے خاص درباری بن جاؤ گے.
43(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو.[1]
44انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے.[1]
45اب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی ﻻٹھی میدان میں ڈال دی جس نے اسی وقت ان کے جھوٹ موٹ کے کرتب کو نگلنا شروع کردیا.
46یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے.
47اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے.
48یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر.
49فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے[1] ، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا.[2]
50انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں[1] ، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی.
51اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں[1] ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا.
52اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کیے جاؤ گے.[1]
53فرعون نے شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیا.
54کہ یقیناً یہ گروه بہت ہی کم تعداد میں ہے.[1]
55اور اس پر یہ ہمیں سخت غضب ناک کر رہے ہیں.[1]
56اور یقیناً ہم بڑی جماعت ہیں ان سے چوکنا رہنے والے.[1]
57بالآخر ہم نےانہیں باغات سے اور چشموں سے.
58اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا.[1]
59اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا.[1]
60پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے.[1]
61پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے.[1]
62موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا.[1]
63ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار[1] ، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا.[2]
64اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک ﻻ کھڑا کر دیا.[1]
65اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی.
66پھر اور سب دوسروں کو ڈبو دیا.[1]
67یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کےاکثر لوگ ایمان والے نہیں.[1]
68اور بیشک آپ کا رب بڑا ہی غالب اور مہربان ہے؟
69انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنادو.
70جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟
71انہوں نے جواب دیا کہ عبادت کرتے ہیں بتوں کی، ہم تو برابر ان کے مجاور بنے بیٹھے ہیں.[1]
72آپ نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وه سنتے بھی ہیں؟
73یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں.[1]
74انہوں نے کہا یہ (ہم کچھ نہیں جانتے) ہم تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا.[1]
75آپ نے فرمایا کچھ خبر بھی[1] ہے جنہیں تم پوج رہے ہو.
76تم اور تمہارے اگلے باپ دادا.
77وه سب میرے دشمن ہیں.[1] بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے.[2]
78جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے.[1]
79وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے.[1]
80اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے.[1]
81اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زنده کردے گا[1]
82اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا.[1]
83اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ[1] عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے.
84اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ.[1]
85مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے.
86اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا.[1]
87اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر.[1]
88جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی.
89لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے.[1]
90اور پرہیزگاروں کے لیے جنت بالکل نزدیک ﻻدی جائے گی.
91اور گمراه لوگوں کے لیے جہنم ﻇاہر کردی جائے گی.[1]
92اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟
93جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے[1] ، کیاوه تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں.
94پس وه سب اور کل گمراه لوگ جہنم میں اوندھے منھ ڈال دیے جائیں گے.[1]
95اور ابلیس کے تمام کے تمام لشکر[1] بھی، وہاں.
96آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے.
97کہ قسم اللہ کی! یقیناً ہم تو کھلی غلطی پر تھے.
98جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے.[1]
99اور ہمیں تو سوا ان بدکاروں کے کسی اور نے گمراه نہیں کیا تھا.[1]
100اب تو ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں.
101اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست.[1]
102اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا تو ہم پکے سچے مومن بن جاتے.[1]
103یہ ماجرا یقیناً ایک زبردست نشانی ہے[1] ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں.[2]
104یقیناً آپ کا پروردگار ہی غالب مہربان ہے.
105قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا.[1]
106جبکہ ان کے بھائی[1] نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں!
107سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں.[1]
108پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری بات ماننی چاہئے.[1]
109میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے.[1]
110پس تم اللہ کا خوف رکھو اور میری فرمانبرداری کرو.[1]
111قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے.[1]
112آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وه پہلے کیا کرتے رہے؟[1]
113ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ[1] ہے اگر تمہیں شعور ہو تو.
114میں ایمان والوں کو دھکے دینے واﻻ نہیں.[1]
115میں تو صاف طور پر ڈرا دینے واﻻ ہوں.[1]
116انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا.
117آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا.
118پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے.
119چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی.
120بعد ازاں باقی کے تمام لوگوں کو ہم نے ڈبو دیا.[1]
121یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں.
122اور بیشک آپ کا پروردگار البتہ وہی ہے زبردست رحم کرنے واﻻ.
123عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا.[1]
124جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود[1] نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟
125میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں.
126پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو!
127میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا ﺛواب تو تمام جہان کے پروردگار کے پاس ہی ہے.
128کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو.[1]
129اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے.[1]
130اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو.[1]
131اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو.[1]
132اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو.
133اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اوﻻد سے.
134باغات سے اور چشموں سے.
135مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے.[1]
136انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے.
137یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے.[1]
138اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے.[1]
139چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا[1] یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے.
140بیشک آپ کا رب وہی غالب مہربان.
141ﺛمودیوں[1] نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا.
142ان کے بھائی صالح نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟.
143میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں.
144تو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا کرو.
145میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت تو بس پرودگار عالم پر ہی ہے.
146کیا ان چیزوں میں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیے جاؤ گے.[1]
147یعنی ان باغوں اور ان چشموں.
148اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں.[1]
149اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو.[1]
150پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.
151بے باک حد سے گزر جانے والوں کی[1] اطاعت سے باز آجاؤ.
152جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے.
153وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے.
154تو تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اگر تو سچوں سے ہے تو کوئی معجزه لے آ.
155آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقرره دن کی باری پانی پینے کی تمہاری.[1]
156(خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا.[1]
157پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں[1]، بس وه پشیمان ہوگئے.[2]
158اور عذاب نے انہیں آ دبوچا[1] ۔ بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے.
159اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست اور مہربان ہے.
160قوم لوط[1] نے بھی نبیوں کو جھٹلایا.
161ان سے ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے؟
162میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.
163پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.
164میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو تمام جہان کا رب ہے.
165کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو.
166اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو[1] ، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے.[2]
167انہوں نے جواب دیاکہ اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً نکال دیا جائے گا.[1]
168آپ نے فرمایا، میں تمہارے کام سے سخت ناخوش ہوں.[1]
169میرے پروردگار! مجھے اور میرے گھرانے کو اس (وبال) سے بچالے جو یہ کرتے ہیں.
170پس ہم نے اسے اور اس کے متعلقین کو سب کو بچالیا.
171بجز ایک بڑھیا کے کہ وه پیچھے ره جانے والوں میں ہوگئی.[1]
172پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کر دیا.
173اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا، پس بہت ہی برا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا.[1]
174یہ ماجرا بھی سراسر عبرت ہے۔ ان میں سے بھی اکثر مسلمان نہ تھے.
175بیشک تیرا پروردگار وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.
176اَیکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا[1]
177جبکہ ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہاکہ کیا تمہیں ڈر خوف نہیں؟
178میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.
179اللہ کا خوف کھاؤ اور میری فرمانبرداری کرو.
180میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا، میرا اجر تمام جہانوں کے پالنے والے کے پاس ہے.
181ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شمولیت نہ کرو.[1]
182اور سیدھی صحیح ترازو سے توﻻ کرو.[1]
183لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو[1] بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو.[2]
184اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے.[1]
185انہوں نے کہا تو تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا جاتا ہے.
186اور تو تو ہم ہی جیسا ایک انسان ہے اور ہم تو تجھے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہی سمجھتے ہیں.[1]
187اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرادے.[1]
188کہاکہ میرا رب خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کر رہے ہو.[1]
189چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا[1] ۔ وه بڑے بھاری دن کا عذاب تھا.
190یقیناً اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں کےاکثر مسلمان نہ تھے.
191اور یقیناً تیرا پروردگار البتہ وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.
192اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے.
193اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے.[1]
194آپ کے دل پر اترا ہے[1] کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں.[2]
195صاف عربی زبان میں ہے.
196اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکره ہے.[1]
197کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیت قرآن کو تو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں.[1]
198اور اگر ہم اسے کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے.
199پس وه ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے.[1]
200اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے.[1]
201وه جب تک دردناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کرلیں ایمان نہ ﻻئیں گے.
202پس وه عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا.
203اس وقت کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟[1]
204پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟[1]
205اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائده اٹھانے دیا.
206پھر انہیں وه عذاب آ لگا جن سے یہ دھمکائے جاتے تھے.
207تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس میں سے کچھ بھی فائده نہ پہنچا سکے گا.[1]
208ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے.
209نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں.[1]
210اس قرآن کو شیطان نہیں ﻻئے.
211نہ وه اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے.
212بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں.[1]
213پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے.
214اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے.[1]
215اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے.
216اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کردے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو.
217اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ.
218جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے.
219اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی.[1]
220وه بڑا ہی سننے واﻻ اور خوب ہی جاننے واﻻ ہے.
221کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں.
222وه ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں.[1]
223(اچٹتی) ہوئی سنی سنائی پہنچا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں.[1]
224شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں.
225کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں.
226اور وه کہتے ہیں جو کرتے نہیں.[1]
227سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے[1] اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا[2]، جنہوں نے ﻇلم کیا ہے وه بھی عنقریب جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں.[3]