Ash-Shu'ara

الشعراء

The Poets227 ayahsMeccan

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

طسٓمٓ﴿١

1طٰسم.

تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ﴿٢

2یہ آیتیں روشن کتاب کی ہیں۔

لَعَلَّكَ بَٰخِعٞ نَّفۡسَكَ أَلَّا يَكُونُواْ مُؤۡمِنِينَ﴿٣

3ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے.[1]

إِن نَّشَأۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ءَايَةٗ فَظَلَّتۡ أَعۡنَٰقُهُمۡ لَهَا خَٰضِعِينَ﴿٤

4اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں.[1]

وَمَا يَأۡتِيهِم مِّن ذِكۡرٖ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ مُحۡدَثٍ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهُ مُعۡرِضِينَ﴿٥

5اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے.

فَقَدۡ كَذَّبُواْ فَسَيَأۡتِيهِمۡ أَنۢبَٰٓؤُاْ مَا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ﴿٦

6ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں.[1]

أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ كَمۡ أَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوۡجٖ كَرِيمٍ﴿٧

7کیا انہوں نے زمین پر نظریں نہیں ڈالیں؟ کہ ہم نے اس میں ہر طرح کے نفیس جوڑے کس قدر اگائے ہیں؟[1]

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ﴿٨

8بے شک اس میں یقیناً نشانی ہے[1] اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں.[2]

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ﴿٩

9اور تیرا رب یقیناً وہی غالب اور مہربان ہے.[1]

وَإِذۡ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱئۡتِ ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ﴿١٠

10اور جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی کہ تو ﻇالم قوم کے پاس جا.[1]

قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَۚ أَلَا يَتَّقُونَ﴿١١

11قوم فرعون کے پاس، کیا وه پرہیزگاری نہ کریں گے.

قَالَ رَبِّ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ﴿١٢

12موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میرے پروردگار! مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وه مجھے جھٹلا (نہ) دیں.

وَيَضِيقُ صَدۡرِي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرۡسِلۡ إِلَىٰ هَٰرُونَ﴿١٣

13اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے[1] میری زبان چل نہیں رہی[2] پس تو ہارون کی طرف بھی وحی بھیج.[3]

وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢبٞ فَأَخَافُ أَن يَقۡتُلُونِ﴿١٤

14اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں.[1]

قَالَ كَلَّاۖ فَٱذۡهَبَا بِـَٔايَٰتِنَآۖ إِنَّا مَعَكُم مُّسۡتَمِعُونَ﴿١٥

15جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ[1] ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں.[2]

فَأۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴿١٦

16تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں.

أَنۡ أَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ﴿١٧

17کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے.[1]

قَالَ أَلَمۡ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدٗا وَلَبِثۡتَ فِينَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِينَ﴿١٨

18فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟[1] اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟[2]

وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ ٱلَّتِي فَعَلۡتَ وَأَنتَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ﴿١٩

19پھر تو اپنا وه کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں ہے.[1]

قَالَ فَعَلۡتُهَآ إِذٗا وَأَنَا۠ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ﴿٢٠

20(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں نے اس کام کو اس وقت کیا تھا جبکہ میں راه بھولے ہوئے لوگوں میں سے تھا.[1]

فَفَرَرۡتُ مِنكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكۡمٗا وَجَعَلَنِي مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ﴿٢١

21پھر تم سے خوف کھا کر میں تم میں سے بھاگ گیا، پھر مجھے میرے رب نے حکم و علم عطا فرمایا اور مجھے اپنے پیغمبروں میں سے کر دیا.[1]

وَتِلۡكَ نِعۡمَةٞ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنۡ عَبَّدتَّ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ﴿٢٢

22مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے.[1]

قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴿٢٣

23فرعون نے کہا رب العالمین کیا (چیز) ہے؟[1]

قَالَ رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ﴿٢٤

24(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو.

قَالَ لِمَنۡ حَوۡلَهُۥٓ أَلَا تَسۡتَمِعُونَ﴿٢٥

25فرعون نے اپنے اردگرد والوں سے کہا کہ کیا تم سن نہیں رہے؟[1]

قَالَ رَبُّكُمۡ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ﴿٢٦

26(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وه تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے.

قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ ٱلَّذِيٓ أُرۡسِلَ إِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُونٞ﴿٢٧

27فرعون نے کہا (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے.

قَالَ رَبُّ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡقِلُونَ﴿٢٨

28حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب[1] ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو.

قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذۡتَ إِلَٰهًا غَيۡرِي لَأَجۡعَلَنَّكَ مِنَ ٱلۡمَسۡجُونِينَ﴿٢٩

29فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا.[1]

قَالَ أَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٖ مُّبِينٖ﴿٣٠

30موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟[1]

قَالَ فَأۡتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ﴿٣١

31فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر.

فَأَلۡقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعۡبَانٞ مُّبِينٞ﴿٣٢

32آپ نے (اسی وقت) اپنی ﻻٹھی ڈال دی جو اچانک کھلم کھلا (زبردست) اﮊدہا بن گئی.[1]

وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنَّٰظِرِينَ﴿٣٣

33اور اپنا ہاتھ کھینچ نکالا تو وه بھی اسی وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا.[1]

قَالَ لِلۡمَلَإِ حَوۡلَهُۥٓ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٞ﴿٣٤

34فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا بھئی یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے.[1]

يُرِيدُ أَن يُخۡرِجَكُم مِّنۡ أَرۡضِكُم بِسِحۡرِهِۦ فَمَاذَا تَأۡمُرُونَ﴿٣٥

35یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے، بتاؤ اب تم کیا حکم دیتے ہو.[1]

قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ وَٱبۡعَثۡ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ﴿٣٦

36ان سب نے کہا آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے.

يَأۡتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٖ﴿٣٧

37جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں.[1]

فَجُمِعَ ٱلسَّحَرَةُ لِمِيقَٰتِ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ﴿٣٨

38پھر ایک مقرر دن کے وعدے پر تمام جادوگر جمع کیے گئے.[1]

وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلۡ أَنتُم مُّجۡتَمِعُونَ﴿٣٩

39اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہوجاؤ گے؟[1]

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ ٱلسَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ ٱلۡغَٰلِبِينَ﴿٤٠

40تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم ان ہی کی پیروی کریں.

فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرۡعَوۡنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا إِن كُنَّا نَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبِينَ﴿٤١

41جادوگر آکر فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟

قَالَ نَعَمۡ وَإِنَّكُمۡ إِذٗا لَّمِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ﴿٤٢

42فرعون نے کہا ہاں! (بڑی خوشی سے) بلکہ ایسی صورت میں تم میرے خاص درباری بن جاؤ گے.

قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلۡقُواْ مَآ أَنتُم مُّلۡقُونَ﴿٤٣

43(حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو.[1]

فَأَلۡقَوۡاْ حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبُونَ﴿٤٤

44انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے.[1]

فَأَلۡقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَأۡفِكُونَ﴿٤٥

45اب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی ﻻٹھی میدان میں ڈال دی جس نے اسی وقت ان کے جھوٹ موٹ کے کرتب کو نگلنا شروع کردیا.

فَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ﴿٤٦

46یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے.

قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴿٤٧

47اورانہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان ﻻئے.

رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ﴿٤٨

48یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے رب پر.

قَالَ ءَامَنتُمۡ لَهُۥ قَبۡلَ أَنۡ ءَاذَنَ لَكُمۡۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِي عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحۡرَ فَلَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ﴿٤٩

49فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے[1] ، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا.[2]

قَالُواْ لَا ضَيۡرَۖ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ﴿٥٠

50انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں[1] ، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی.

إِنَّا نَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَٰيَٰنَآ أَن كُنَّآ أَوَّلَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ﴿٥١

51اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں[1] ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا.

۞ وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَسۡرِ بِعِبَادِيٓ إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ﴿٥٢

52اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کیے جاؤ گے.[1]

فَأَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ﴿٥٣

53فرعون نے شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیا.

إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٞ قَلِيلُونَ﴿٥٤

54کہ یقیناً یہ گروه بہت ہی کم تعداد میں ہے.[1]

وَإِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآئِظُونَ﴿٥٥

55اور اس پر یہ ہمیں سخت غضب ناک کر رہے ہیں.[1]

وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَٰذِرُونَ﴿٥٦

56اور یقیناً ہم بڑی جماعت ہیں ان سے چوکنا رہنے والے.[1]

فَأَخۡرَجۡنَٰهُم مِّن جَنَّٰتٖ وَعُيُونٖ﴿٥٧

57بالآخر ہم نےانہیں باغات سے اور چشموں سے.

وَكُنُوزٖ وَمَقَامٖ كَرِيمٖ﴿٥٨

58اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا.[1]

كَذَٰلِكَۖ وَأَوۡرَثۡنَٰهَا بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ﴿٥٩

59اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا.[1]

فَأَتۡبَعُوهُم مُّشۡرِقِينَ﴿٦٠

60پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے.[1]

فَلَمَّا تَرَٰٓءَا ٱلۡجَمۡعَانِ قَالَ أَصۡحَٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدۡرَكُونَ﴿٦١

61پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے.[1]

قَالَ كَلَّآۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهۡدِينِ﴿٦٢

62موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا.[1]

فَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡبَحۡرَۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٖ كَٱلطَّوۡدِ ٱلۡعَظِيمِ﴿٦٣

63ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار[1] ، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا.[2]

وَأَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ٱلۡأٓخَرِينَ﴿٦٤

64اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک ﻻ کھڑا کر دیا.[1]

وَأَنجَيۡنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَجۡمَعِينَ﴿٦٥

65اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی.

ثُمَّ أَغۡرَقۡنَا ٱلۡأٓخَرِينَ﴿٦٦

66پھر اور سب دوسروں کو ڈبو دیا.[1]

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ﴿٦٧

67یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کےاکثر لوگ ایمان والے نہیں.[1]

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ﴿٦٨

68اور بیشک آپ کا رب بڑا ہی غالب اور مہربان ہے؟

وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ إِبۡرَٰهِيمَ﴿٦٩

69انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنادو.

إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوۡمِهِۦ مَا تَعۡبُدُونَ﴿٧٠

70جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟

قَالُواْ نَعۡبُدُ أَصۡنَامٗا فَنَظَلُّ لَهَا عَٰكِفِينَ﴿٧١

71انہوں نے جواب دیا کہ عبادت کرتے ہیں بتوں کی، ہم تو برابر ان کے مجاور بنے بیٹھے ہیں.[1]

قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُونَكُمۡ إِذۡ تَدۡعُونَ﴿٧٢

72آپ نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وه سنتے بھی ہیں؟

أَوۡ يَنفَعُونَكُمۡ أَوۡ يَضُرُّونَ﴿٧٣

73یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں.[1]

قَالُواْ بَلۡ وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا كَذَٰلِكَ يَفۡعَلُونَ﴿٧٤

74انہوں نے کہا یہ (ہم کچھ نہیں جانتے) ہم تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا.[1]

قَالَ أَفَرَءَيۡتُم مَّا كُنتُمۡ تَعۡبُدُونَ﴿٧٥

75آپ نے فرمایا کچھ خبر بھی[1] ہے جنہیں تم پوج رہے ہو.

أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُمُ ٱلۡأَقۡدَمُونَ﴿٧٦

76تم اور تمہارے اگلے باپ دادا.

فَإِنَّهُمۡ عَدُوّٞ لِّيٓ إِلَّا رَبَّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴿٧٧

77وه سب میرے دشمن ہیں.[1] بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے.[2]

ٱلَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهۡدِينِ﴿٧٨

78جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہبری فرماتا ہے.[1]

وَٱلَّذِي هُوَ يُطۡعِمُنِي وَيَسۡقِينِ﴿٧٩

79وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے.[1]

وَإِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِينِ﴿٨٠

80اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے.[1]

وَٱلَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحۡيِينِ﴿٨١

81اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زنده کردے گا[1]

وَٱلَّذِيٓ أَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لِي خَطِيٓـَٔتِي يَوۡمَ ٱلدِّينِ﴿٨٢

82اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا.[1]

رَبِّ هَبۡ لِي حُكۡمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّٰلِحِينَ﴿٨٣

83اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ[1] عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے.

وَٱجۡعَل لِّي لِسَانَ صِدۡقٖ فِي ٱلۡأٓخِرِينَ﴿٨٤

84اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ.[1]

وَٱجۡعَلۡنِي مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ ٱلنَّعِيمِ﴿٨٥

85مجھے نعمتوں والی جنت کے وارﺛوں میں سے بنادے.

وَٱغۡفِرۡ لِأَبِيٓ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ﴿٨٦

86اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا.[1]

وَلَا تُخۡزِنِي يَوۡمَ يُبۡعَثُونَ﴿٨٧

87اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر.[1]

يَوۡمَ لَا يَنفَعُ مَالٞ وَلَا بَنُونَ﴿٨٨

88جس دن کہ مال اور اوﻻد کچھ کام نہ آئے گی.

إِلَّا مَنۡ أَتَى ٱللَّهَ بِقَلۡبٖ سَلِيمٖ﴿٨٩

89لیکن فائده واﻻ وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بے عیب دل لے کر جائے.[1]

وَأُزۡلِفَتِ ٱلۡجَنَّةُ لِلۡمُتَّقِينَ﴿٩٠

90اور پرہیزگاروں کے لیے جنت بالکل نزدیک ﻻدی جائے گی.

وَبُرِّزَتِ ٱلۡجَحِيمُ لِلۡغَاوِينَ﴿٩١

91اور گمراه لوگوں کے لیے جہنم ﻇاہر کردی جائے گی.[1]

وَقِيلَ لَهُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡبُدُونَ﴿٩٢

92اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟

مِن دُونِ ٱللَّهِ هَلۡ يَنصُرُونَكُمۡ أَوۡ يَنتَصِرُونَ﴿٩٣

93جو اللہ تعالیٰ کے سوا تھے[1] ، کیاوه تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں.

فَكُبۡكِبُواْ فِيهَا هُمۡ وَٱلۡغَاوُۥنَ﴿٩٤

94پس وه سب اور کل گمراه لوگ جہنم میں اوندھے منھ ڈال دیے جائیں گے.[1]

وَجُنُودُ إِبۡلِيسَ أَجۡمَعُونَ﴿٩٥

95اور ابلیس کے تمام کے تمام لشکر[1] بھی، وہاں.

قَالُواْ وَهُمۡ فِيهَا يَخۡتَصِمُونَ﴿٩٦

96آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے.

تَٱللَّهِ إِن كُنَّا لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ﴿٩٧

97کہ قسم اللہ کی! یقیناً ہم تو کھلی غلطی پر تھے.

إِذۡ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴿٩٨

98جبکہ تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے.[1]

وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلَّا ٱلۡمُجۡرِمُونَ﴿٩٩

99اور ہمیں تو سوا ان بدکاروں کے کسی اور نے گمراه نہیں کیا تھا.[1]

فَمَا لَنَا مِن شَٰفِعِينَ﴿١٠٠

100اب تو ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں.

وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٖ﴿١٠١

101اور نہ کوئی (سچا) غم خوار دوست.[1]

فَلَوۡ أَنَّ لَنَا كَرَّةٗ فَنَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ﴿١٠٢

102اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا تو ہم پکے سچے مومن بن جاتے.[1]

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ﴿١٠٣

103یہ ماجرا یقیناً ایک زبردست نشانی ہے[1] ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں.[2]

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ﴿١٠٤

104یقیناً آپ کا پروردگار ہی غالب مہربان ہے.

كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوحٍ ٱلۡمُرۡسَلِينَ﴿١٠٥

105قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا.[1]

إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ﴿١٠٦

106جبکہ ان کے بھائی[1] نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں!

إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ﴿١٠٧

107سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں.[1]

فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ﴿١٠٨

108پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری بات ماننی چاہئے.[1]

وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴿١٠٩

109میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے.[1]

فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ﴿١١٠

110پس تم اللہ کا خوف رکھو اور میری فرمانبرداری کرو.[1]

۞ قَالُوٓاْ أَنُؤۡمِنُ لَكَ وَٱتَّبَعَكَ ٱلۡأَرۡذَلُونَ﴿١١١

111قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے.[1]

قَالَ وَمَا عِلۡمِي بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ﴿١١٢

112آپ نے فرمایا! مجھے کیا خبر کہ وه پہلے کیا کرتے رہے؟[1]

إِنۡ حِسَابُهُمۡ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّيۖ لَوۡ تَشۡعُرُونَ﴿١١٣

113ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ[1] ہے اگر تمہیں شعور ہو تو.

وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ﴿١١٤

114میں ایمان والوں کو دھکے دینے واﻻ نہیں.[1]

إِنۡ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٞ مُّبِينٞ﴿١١٥

115میں تو صاف طور پر ڈرا دینے واﻻ ہوں.[1]

قَالُواْ لَئِن لَّمۡ تَنتَهِ يَٰنُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمَرۡجُومِينَ﴿١١٦

116انہوں نے کہاکہ اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً تجھے سنگسار کردیا جائے گا.

قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوۡمِي كَذَّبُونِ﴿١١٧

117آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا.

فَٱفۡتَحۡ بَيۡنِي وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحٗا وَنَجِّنِي وَمَن مَّعِيَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ﴿١١٨

118پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کردے اور مجھے اور میرے با ایمان ساتھیوں کو نجات دے.

فَأَنجَيۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ﴿١١٩

119چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی میں (سوار کراکر) نجات دے دی.

ثُمَّ أَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ ٱلۡبَاقِينَ﴿١٢٠

120بعد ازاں باقی کے تمام لوگوں کو ہم نے ڈبو دیا.[1]

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ﴿١٢١

121یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں.

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ﴿١٢٢

122اور بیشک آپ کا پروردگار البتہ وہی ہے زبردست رحم کرنے واﻻ.

كَذَّبَتۡ عَادٌ ٱلۡمُرۡسَلِينَ﴿١٢٣

123عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا.[1]

إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ﴿١٢٤

124جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود[1] نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟

إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ﴿١٢٥

125میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں.

فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ﴿١٢٦

126پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو!

وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴿١٢٧

127میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا ﺛواب تو تمام جہان کے پروردگار کے پاس ہی ہے.

أَتَبۡنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةٗ تَعۡبَثُونَ﴿١٢٨

128کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو.[1]

وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُونَ﴿١٢٩

129اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے.[1]

وَإِذَا بَطَشۡتُم بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِينَ﴿١٣٠

130اور جب کسی پر ہاتھ، ڈالتے ہو تو سختی اور ﻇلم سے پکڑتے ہو.[1]

فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ﴿١٣١

131اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو.[1]

وَٱتَّقُواْ ٱلَّذِيٓ أَمَدَّكُم بِمَا تَعۡلَمُونَ﴿١٣٢

132اس سے ڈرو جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو.

أَمَدَّكُم بِأَنۡعَٰمٖ وَبَنِينَ﴿١٣٣

133اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اوﻻد سے.

وَجَنَّٰتٖ وَعُيُونٍ﴿١٣٤

134باغات سے اور چشموں سے.

إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ﴿١٣٥

135مجھے تو تمہاری نسبت بڑے دن کےعذاب کا اندیشہ ہے.[1]

قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡنَآ أَوَعَظۡتَ أَمۡ لَمۡ تَكُن مِّنَ ٱلۡوَٰعِظِينَ﴿١٣٦

136انہوں نے کہا کہ آپ وعﻆ کہیں یا وعﻆ کہنے والوں میں نہ ہوں ہم پر یکساں ہے.

إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا خُلُقُ ٱلۡأَوَّلِينَ﴿١٣٧

137یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے.[1]

وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ﴿١٣٨

138اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے.[1]

فَكَذَّبُوهُ فَأَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ﴿١٣٩

139چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا[1] یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے.

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ﴿١٤٠

140بیشک آپ کا رب وہی غالب مہربان.

كَذَّبَتۡ ثَمُودُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ﴿١٤١

141ﺛمودیوں[1] نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا.

إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ صَٰلِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ﴿١٤٢

142ان کے بھائی صالح نے ان سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟.

إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ﴿١٤٣

143میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں.

فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ﴿١٤٤

144تو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا کرو.

وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴿١٤٥

145میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت تو بس پرودگار عالم پر ہی ہے.

أَتُتۡرَكُونَ فِي مَا هَٰهُنَآ ءَامِنِينَ﴿١٤٦

146کیا ان چیزوں میں جو یہاں ہیں تم امن کے ساتھ چھوڑ دیے جاؤ گے.[1]

فِي جَنَّٰتٖ وَعُيُونٖ﴿١٤٧

147یعنی ان باغوں اور ان چشموں.

وَزُرُوعٖ وَنَخۡلٖ طَلۡعُهَا هَضِيمٞ﴿١٤٨

148اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں.[1]

وَتَنۡحِتُونَ مِنَ ٱلۡجِبَالِ بُيُوتٗا فَٰرِهِينَ﴿١٤٩

149اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو.[1]

فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ﴿١٥٠

150پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.

وَلَا تُطِيعُوٓاْ أَمۡرَ ٱلۡمُسۡرِفِينَ﴿١٥١

151بے باک حد سے گزر جانے والوں کی[1] اطاعت سے باز آجاؤ.

ٱلَّذِينَ يُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُونَ﴿١٥٢

152جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے.

قَالُوٓاْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلۡمُسَحَّرِينَ﴿١٥٣

153وه بولے کہ بس تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہے.

مَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا فَأۡتِ بِـَٔايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ﴿١٥٤

154تو تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اگر تو سچوں سے ہے تو کوئی معجزه لے آ.

قَالَ هَٰذِهِۦ نَاقَةٞ لَّهَا شِرۡبٞ وَلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ﴿١٥٥

155آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی، پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقرره دن کی باری پانی پینے کی تمہاری.[1]

وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيمٖ﴿١٥٦

156(خبردار!) اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہاری گرفت کر لے گا.[1]

فَعَقَرُوهَا فَأَصۡبَحُواْ نَٰدِمِينَ﴿١٥٧

157پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں[1]، بس وه پشیمان ہوگئے.[2]

فَأَخَذَهُمُ ٱلۡعَذَابُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ﴿١٥٨

158اور عذاب نے انہیں آ دبوچا[1] ۔ بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے.

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ﴿١٥٩

159اور بیشک آپ کا رب بڑا زبردست اور مہربان ہے.

كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوطٍ ٱلۡمُرۡسَلِينَ﴿١٦٠

160قوم لوط[1] نے بھی نبیوں کو جھٹلایا.

إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ﴿١٦١

161ان سے ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے؟

إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ﴿١٦٢

162میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.

فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ﴿١٦٣

163پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو.

وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴿١٦٤

164میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتا میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ پر ہے جو تمام جہان کا رب ہے.

أَتَأۡتُونَ ٱلذُّكۡرَانَ مِنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴿١٦٥

165کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو.

وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمۡ رَبُّكُم مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُمۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٌ عَادُونَ﴿١٦٦

166اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو[1] ، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے.[2]

قَالُواْ لَئِن لَّمۡ تَنتَهِ يَٰلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُخۡرَجِينَ﴿١٦٧

167انہوں نے جواب دیاکہ اے لوط! اگر تو باز نہ آیا تو یقیناً نکال دیا جائے گا.[1]

قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ ٱلۡقَالِينَ﴿١٦٨

168آپ نے فرمایا، میں تمہارے کام سے سخت ناخوش ہوں.[1]

رَبِّ نَجِّنِي وَأَهۡلِي مِمَّا يَعۡمَلُونَ﴿١٦٩

169میرے پروردگار! مجھے اور میرے گھرانے کو اس (وبال) سے بچالے جو یہ کرتے ہیں.

فَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ أَجۡمَعِينَ﴿١٧٠

170پس ہم نے اسے اور اس کے متعلقین کو سب کو بچالیا.

إِلَّا عَجُوزٗا فِي ٱلۡغَٰبِرِينَ﴿١٧١

171بجز ایک بڑھیا کے کہ وه پیچھے ره جانے والوں میں ہوگئی.[1]

ثُمَّ دَمَّرۡنَا ٱلۡأٓخَرِينَ﴿١٧٢

172پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کر دیا.

وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِم مَّطَرٗاۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلۡمُنذَرِينَ﴿١٧٣

173اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا، پس بہت ہی برا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا.[1]

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ﴿١٧٤

174یہ ماجرا بھی سراسر عبرت ہے۔ ان میں سے بھی اکثر مسلمان نہ تھے.

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ﴿١٧٥

175بیشک تیرا پروردگار وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.

كَذَّبَ أَصۡحَٰبُ لۡـَٔيۡكَةِ ٱلۡمُرۡسَلِينَ﴿١٧٦

176اَیکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا[1]

إِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ أَلَا تَتَّقُونَ﴿١٧٧

177جبکہ ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہاکہ کیا تمہیں ڈر خوف نہیں؟

إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ﴿١٧٨

178میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں.

فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ﴿١٧٩

179اللہ کا خوف کھاؤ اور میری فرمانبرداری کرو.

وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴿١٨٠

180میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا، میرا اجر تمام جہانوں کے پالنے والے کے پاس ہے.

۞ أَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُخۡسِرِينَ﴿١٨١

181ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شمولیت نہ کرو.[1]

وَزِنُواْ بِٱلۡقِسۡطَاسِ ٱلۡمُسۡتَقِيمِ﴿١٨٢

182اور سیدھی صحیح ترازو سے توﻻ کرو.[1]

وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ﴿١٨٣

183لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو[1] بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو.[2]

وَٱتَّقُواْ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ وَٱلۡجِبِلَّةَ ٱلۡأَوَّلِينَ﴿١٨٤

184اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے.[1]

قَالُوٓاْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلۡمُسَحَّرِينَ﴿١٨٥

185انہوں نے کہا تو تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا جاتا ہے.

وَمَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ﴿١٨٦

186اور تو تو ہم ہی جیسا ایک انسان ہے اور ہم تو تجھے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہی سمجھتے ہیں.[1]

فَأَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ﴿١٨٧

187اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرادے.[1]

قَالَ رَبِّيٓ أَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُونَ﴿١٨٨

188کہاکہ میرا رب خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کر رہے ہو.[1]

فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ ٱلظُّلَّةِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٍ﴿١٨٩

189چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا[1] ۔ وه بڑے بھاری دن کا عذاب تھا.

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ﴿١٩٠

190یقیناً اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں کےاکثر مسلمان نہ تھے.

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ﴿١٩١

191اور یقیناً تیرا پروردگار البتہ وہی ہے غلبے واﻻ مہربانی واﻻ.

وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴿١٩٢

192اور بیشک و شبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے.

نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلۡأَمِينُ﴿١٩٣

193اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے.[1]

عَلَىٰ قَلۡبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ﴿١٩٤

194آپ کے دل پر اترا ہے[1] کہ آپ آگاه کر دینے والوں میں سے ہو جائیں.[2]

بِلِسَانٍ عَرَبِيّٖ مُّبِينٖ﴿١٩٥

195صاف عربی زبان میں ہے.

وَإِنَّهُۥ لَفِي زُبُرِ ٱلۡأَوَّلِينَ﴿١٩٦

196اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکره ہے.[1]

أَوَلَمۡ يَكُن لَّهُمۡ ءَايَةً أَن يَعۡلَمَهُۥ عُلَمَٰٓؤُاْ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ﴿١٩٧

197کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیت قرآن کو تو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں.[1]

وَلَوۡ نَزَّلۡنَٰهُ عَلَىٰ بَعۡضِ ٱلۡأَعۡجَمِينَ﴿١٩٨

198اور اگر ہم اسے کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے.

فَقَرَأَهُۥ عَلَيۡهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ مُؤۡمِنِينَ﴿١٩٩

199پس وه ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے.[1]

كَذَٰلِكَ سَلَكۡنَٰهُ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ﴿٢٠٠

200اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے.[1]

لَا يُؤۡمِنُونَ بِهِۦ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ﴿٢٠١

201وه جب تک دردناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کرلیں ایمان نہ ﻻئیں گے.

فَيَأۡتِيَهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ﴿٢٠٢

202پس وه عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا.

فَيَقُولُواْ هَلۡ نَحۡنُ مُنظَرُونَ﴿٢٠٣

203اس وقت کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت دی جائے گی؟[1]

أَفَبِعَذَابِنَا يَسۡتَعۡجِلُونَ﴿٢٠٤

204پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟[1]

أَفَرَءَيۡتَ إِن مَّتَّعۡنَٰهُمۡ سِنِينَ﴿٢٠٥

205اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائده اٹھانے دیا.

ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ﴿٢٠٦

206پھر انہیں وه عذاب آ لگا جن سے یہ دھمکائے جاتے تھے.

مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ﴿٢٠٧

207تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس میں سے کچھ بھی فائده نہ پہنچا سکے گا.[1]

وَمَآ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنذِرُونَ﴿٢٠٨

208ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے.

ذِكۡرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَٰلِمِينَ﴿٢٠٩

209نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں.[1]

وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ ٱلشَّيَٰطِينُ﴿٢١٠

210اس قرآن کو شیطان نہیں ﻻئے.

وَمَا يَنۢبَغِي لَهُمۡ وَمَا يَسۡتَطِيعُونَ﴿٢١١

211نہ وه اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے.

إِنَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّمۡعِ لَمَعۡزُولُونَ﴿٢١٢

212بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں.[1]

فَلَا تَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُعَذَّبِينَ﴿٢١٣

213پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجائے.

وَأَنذِرۡ عَشِيرَتَكَ ٱلۡأَقۡرَبِينَ﴿٢١٤

214اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے.[1]

وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ﴿٢١٥

215اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے.

فَإِنۡ عَصَوۡكَ فَقُلۡ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تَعۡمَلُونَ﴿٢١٦

216اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کردے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو.

وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ﴿٢١٧

217اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ.

ٱلَّذِي يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ﴿٢١٨

218جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے.

وَتَقَلُّبَكَ فِي ٱلسَّٰجِدِينَ﴿٢١٩

219اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی.[1]

إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ﴿٢٢٠

220وه بڑا ہی سننے واﻻ اور خوب ہی جاننے واﻻ ہے.

هَلۡ أُنَبِّئُكُمۡ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَٰطِينُ﴿٢٢١

221کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں.

تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ﴿٢٢٢

222وه ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں.[1]

يُلۡقُونَ ٱلسَّمۡعَ وَأَكۡثَرُهُمۡ كَٰذِبُونَ﴿٢٢٣

223(اچٹتی) ہوئی سنی سنائی پہنچا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں.[1]

وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ﴿٢٢٤

224شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں.

أَلَمۡ تَرَ أَنَّهُمۡ فِي كُلِّ وَادٖ يَهِيمُونَ﴿٢٢٥

225کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں.

وَأَنَّهُمۡ يَقُولُونَ مَا لَا يَفۡعَلُونَ﴿٢٢٦

226اور وه کہتے ہیں جو کرتے نہیں.[1]

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَذَكَرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا وَٱنتَصَرُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَيَّ مُنقَلَبٖ يَنقَلِبُونَ﴿٢٢٧

227سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے[1] اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا[2]، جنہوں نے ﻇلم کیا ہے وه بھی عنقریب جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں.[3]

RELATED SURAHS